جاپان دنیا کا وہ ملک ہے جہاں انسان کی عقل کو حیران کر دینے والی بے شمار چیزیں دیکھنے کو ملیں گی۔
ایسی ہی حیرت انگیز چیزوں میں سے ایک جاپان میں موجود پھلوں کی شکل والے بس اسٹاپ ہیں۔
یہ دلچسپ و عجیب قسم کے رنگین بس اسٹاپ ناگاساکی میں دیکھنے کو ملیں گے جہاں 9 اگست 1945 کو امریکا نے ایٹم بم گرایا تھا اور دوسری جنگ عظیم کا جلد خاتمہ کرنے کی کوشش میں انسانی جانوں کے بڑے پیمانے پر نقصان ہوا تھا۔
ناگاساکی میں موجود ایک چھوٹا سا شہر کوناگئی پھلوں کی شکل والے بس اسٹاپس کی وجہ سے مشہور ہے۔
کوناگئی کے دلکش ساحل کے ساتھ پھلوں کی شکل کے 16 بڑے بس اسٹاپ ہیں جو اکثر مسافروں کو حیران اور متاثر کرتے ہیں۔ یہ بس اسٹاپس اسٹرابیری، خربوزے، ٹماٹر، تربوز اور مالٹوں کی شکل میں بنائے گئے ہیں۔
کوناگئی میں پھلوں کی شکل کے بس اسٹاپ مشہور کارٹون شو ’سنڈریلا‘ میں دکھائی گئی کدو کی شکل والی گاڑی سے متاثر ہوکر بنائے گئے تھے۔
یہ بس اسٹاپس جاپانی بندرگاہ کی تاریخ کو منانے کے لیے شہر میں منعقد ہونے والی ایک نمائش میں پہلی بار پیش کیے گئے تھے جو 9 سے 15 اگست 1990ء تک جاری رہی تھی۔
پھلوں کی شکل والے یہ مشہور بس اسٹاپس سیاحوں کو خطے میں سکون کا احساس دلانے کے لیے بنائے گئے تھے اور یہ ناگاساکی پریفیکچر کے مقامی پھلوں کی پیداوار کی نمائندگی کرتے ہیں۔