بالی ووڈ کے نامور گلوکار کمار سانو کی بڑی جیت ہوئی ہے، 50 کروڑ روپے کے ہرجانے کے مقدمے میں عدالت نے ان کی سابقہ اہلیہ کو زبان بندی کا حکم دے دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق کمار سانو نے اپنی سابقہ اہلیہ ریٹا بھٹاچاریہ کے خلاف 50 کروڑ روپے کے ہتکِ عزت کے مقدمے میں بڑی قانونی کامیابی حاصل کر لی ہے۔
ممبئی ہائی کورٹ نے ریٹا بھٹاچاریہ کو کمار سانو اور ان کے خاندان کے خلاف کسی بھی قسم کے توہین آمیز، جھوٹے یا متنازع بیانات دینے سے سختی سے روک دیا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس ملند جادھو نے ریٹا بھٹا چاریہ اور بعض آزاد میڈیا ہاؤسز کے خلاف حکم جاری کیا جس میں کہا ہے کہ وہ پرنٹ، ڈیجیٹل یا سوشل میڈیا کے کسی بھی پلیٹ فارم پر گلوکار کے خلاف کوئی بھی ایسی بات نہ لکھیں یا بولیں جس سے گلوکار کی ساکھ متاثر ہو۔
جسٹس جادھو نے ریمارکس دیے کہ ریٹا کے پچھلے انٹرویوز محض تبصرے نہیں تھے بلکہ وہ ذاتی حملوں کی حد تک چلے گئے تھے۔
دورانِ سماعت کمار سانو کی وکیل ثناء رئیس خان نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ریٹا کے حالیہ انٹرویوز نے گلوکار کو شدید مالی اور ذاتی نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے عدالت سے پرانے انٹرویوز ہٹانے کی استدعا بھی کی، جس پر عدالت نے کہا کہ وہ مدعا علیہان کا جواب موصول ہونے کے بعد اس پر غور کرے گی۔
واضح رہے کہ کمار سانو نے گزشتہ سال یہ مقدمہ اس وقت دائر کیا تھا جب ریٹا بھٹا چاریہ نے مختلف پلیٹ فارمز کو دیے گئے انٹرویوز میں الزام لگایا تھا کہ کمار سانو نے دورانِ حمل ان کے ساتھ بدسلوکی کی، انہیں کھانے سے محروم رکھا اور طبی سہولتیں فراہم نہیں کیں۔
کمار سانو کی قانونی ٹیم نے ان الزامات کو جھوٹا اور بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔
مقدمے میں یہ بھی مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ 2001ء میں طلاق کے معاہدے کے تحت دونوں فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی نہ کرنے کا عہد کیا تھا اور ریٹا نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔
عدالت نے کیس کی اگلی سماعت 28 جنوری کو مقرر کی ہے۔
یاد رہے کہ کمار سانو اور ریٹا کی شادی 1986ء میں ہوئی تھی، تاہم 7 سال بعد 1994ء میں دونوں الگ ہو گئے تھے، ان کی طلاق 2001ء میں مکمل ہوئی تھی، ان دونوں کے 3 بیٹے ہیں۔