گورنر سندھ کامران ٹیسوری سانحۂ گل پلازا میں شہید ہونے والے فائر فائٹر فرقان علی کے کراچی میں واقع گھر پہنچ گئے۔
اس موقع پر گورنر سندھ نے شہید فرقان علی کے ورثاء سے ملاقات کی، اظہارِ تعزیت کیا اور میڈیا سے گفتگو کی۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نےکہا کہ گل پلازا کے سانحے میں کئی جانیں چلی گئیں، کئی لوگوں کے کاروبار تباہ ہو گئے، یہ عظیم نوجوان فرقان علی اپنی ذمے داری نبھاتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوا۔
گورنر سندھ نے کہا کہ یہ نوجوان اس خوفناک آگ میں لوگوں کو نکال رہا تھا اور آگ بجھانے میں مصروف تھا، یہ سیاست دانوں اور دیگر اداروں کے لیے مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے نوجوان بھی موجود ہیں جو اپنی جان کی پرواہ نہیں کرتے، جان کا نعم البدل کوئی نہیں، نہ پیسہ اور نہ کچھ اور، کوئی بھی پیسہ نعم البدل نہیں ہوتا۔
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ اس فائر اسٹیشن کو فرقان علی کے نام سے منسوب کیا جائے گا جبکہ اس اسٹریٹ کا نام بھی فرقان علی کے نام سے منسوب کرنے کے لیے میئر کراچی کو خط لکھوں گا۔
ان کا کہنا ہے کہ سیاست یا بلیم گیم کے بجائے اس سے سیکھنا چاہیے، ایسی حکمتِ عملی بنائی جائے کہ ایسا کوئی دوسرا واقعہ نہ ہو، 100 سے زائد لواحقین اپنے پیاروں کے ڈی این اے کا انتظار کر رہے ہیں۔
گورنر سندھ کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر سیاسی جماعتوں کے درمیان نورا کشتی جاری ہے، کراچی میں پہلے ہی بہت خونریزی ہو گئی ہے، ہر ادارے کا آڈٹ ہونا چاہیے، ہر ادارہ اپنا احتساب خود کرے۔
انہوں نے سوال اٹھائے کہ ہمارے پاس کسی حادثے کے لیے کیا آلات ہیں؟ کتنا تجربہ یا وسائل ہیں؟
گورنر کامران ٹیسوری نے بتایا کہ فرقان علی کو سول ایوارڈ کے لیے نامزد کیا جا رہا ہے، صدرِ مملکت کو خط بھیج رہا ہوں، فرقان علی کے اہل خانہ کو ایک پلاٹ بھی دے رہا ہوں، بلڈر ان کو سوسائٹی میں گھر بنا کر دے گا۔