• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شمیمہ بیگم برطانوی شہریت کی بحالی کے لیے سرگرداں

شمیمہ بیگم(فائل فوٹو)۔
شمیمہ بیگم(فائل فوٹو)۔

برطانیہ چھوڑ کر شدت پسند تنظیم داعش میں شمولیت اختیار کرنے اور اس کی پاداش میں برطانوی شہرت سے محروم ہونیوالی شمیمہ بیگم اب اپنی شہریت کی بحالی کیلئے بین الاقوامی سطح پر  وکلاءکی وساطت سے جدوجہد کر رہی ہیں۔

دوسری جانب ممکنہ طور پر بحالی کے بعد داعش کی دیگر دلہنیں جو شامی جیلوں سے فرار ہوئیں انکی برطانیہ واپس آنے کی بازگشت اس وقت موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔

برطانوی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق جیل کے حراستی کیمپ سے فرار ہونیوالی خواتیں کی بڑی تعداد داعش کے کارکنان کیساتھ رشتوں میں بندھی ہوئی ہیں۔

خواتین کی ہنگامہ آرائی کے بعد افراتفری میں درجنوں خواتین نے باڑ کو گرایا اور کیمپ سے نکلنے میں کامیاب ہوئیں، الہول نامی کیمپ ایس ڈی ایف کے زیر کنٹرول ہے جو کئی دیگر جیلوں کی نگرانی کا فریضہ سر انجام رہا ہے، جہاں پر 9 ہزار سے زائد جنگجو اور چالیس ہزار کے قریب خواتین اور بچے کسی نہ کسی حوالے سے عسکریت پسندوں سے متعلق ہیں۔

حالیہ بد امنی کے بعد خدشہ سر اٹھا رہا ہے کہ 26 سالہ شمیمہ بیگم جو 15سال کی عمر میں 2005 کے دوران لندن چھوڑنے کے باعث شہریت گنوا چکی ہیں، اب یورپی یونین کی عدالتوں سے ریلیف ملنے کے بعد برطانیہ آ سکتی ہیں۔

سابق برطانوی ہوم سیکریٹری ساجد جاوید نے قومی سلامتی کی بنیادوں پر شمیمہ کی شہریت منسوخ کی تھی اور وہ طویل مدت سے قانون چیلنجز سے نبرد آزما ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
برطانیہ و یورپ سے مزید