پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیٹر بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ ملک پر اس وقت 80 ٹریلین روپے کا قرض ہے۔
سینیٹ اجلاس سے خطاب میں بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ٹیکس دینے والوں پر ہی سپر ٹیکس لگا کر حکومت چلائی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک پر اس وقت 80 ٹریلین روپے قرض ہے، پارلیمنٹ کے پاس نہ معیشت، نہ ہی خارجہ امور کا کوئی معاملہ لے کر آیا جاتا ہے۔
پی ٹی آئی سینیٹر نے مزید کہا کہ دنیا میں نیا نظام آرہا ہے، جس میں اقوام متحدہ اور بین الاقوامی قوانین کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ غیر منتخب حکومت نے قرض لے کر ہی گزارا کرنا ہے عام شہری کا معاشی قتل ہو رہا ہے۔
بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آپ کو پارلیمنٹ کی ضرورت پڑے گی، قوم کی حمایت آپ کو تب ملے گی جب بانی پی ٹی آئی آئیں گے۔
اس معاملے پر وزیر مملکت بلال اظہر کیانی نے جواب دیا اور کہا کہ اڈیالہ میں بیٹھا شخص حکومت میں آکر فیل ہوچکا ہے، اس نے کرسی کی خاطر آئی ایم ایف کا پروگرام سبوتاژ کیا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بیرسٹر علی ظفرکی پارٹی کی معاشی پالیسیاں ہم نے 2018 میں خوب دیکھیں، بتایا گیا کہ اسد عمر بڑے معاشی ایکسپرٹ ہیں، انہیں 12 ماہ سمجھ نہیں آیا کرنا کیا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے معاشی دہشت گردی کی، ان کی لگائی آگ ہم بجھارہے ہیں، آپ معاشی استحکام میں حصہ نہیں ڈال سکتے تو اس میں رکاوٹ نہ بنیں۔
اجلاس کے دوران پی ٹی آئی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کی گئی، ساتھ ہی اپوزیشن نے غزہ امن بورڈ پر حزب اختلاف کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا۔
سینیٹ اجلا س میں کورم کی نشاندہی پر اجلاس غیر معینہ مدت تک کےلیے ملتوی کردیا گیا۔