• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سی ایس اے، افسران کا یتیم خانوں اور اولڈ ایج ہومز کا دورہ، دیکھ بھال انتظامات کا مشاہدہ

لاہور(آصف محمود بٹ) پاکستان سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) کے 53و یں کامن ٹریننگ پروگرام کے پروبیشنری افسران نے ہفتہ کے روز لاہور میں واقع مختلف یتیم خانوں اور اولڈ ایج ہومز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایک روزہ کمیونٹی اٹیچمنٹ کے دوران بچوں اور بزرگ شہریوں سے ملاقاتیں کیں اور ان کی دیکھ بھال کے انتظامات کا مشاہدہ کیا۔ یہ دورہ سی ایس اے کے تربیتی نظام میں شامل اس نئے طریقۂ کار کا حصہ تھا، جس کے تحت مستقبل کے سرکاری افسران میں اخلاقی ذمہ داری، ہمدردی، برداشت اور عوامی خدمت کے جذبے کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ اکیڈمی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد افسران کو عملی زندگی میں عوامی مسائل اور کمزور طبقات کی مشکلات سے آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ مستقبل میں بہتر فیصلے کر سکیں۔ یہ تربیت خدمتِ خلق اور عوامی فلاح کے ان اصولوں کے مطابق ہے جن کی تعلیم حضور اکرم نے دی۔ اکیڈمی کے مطابق گزشتہ تین برسوں کے دوران کامن ٹریننگ پروگرام کے نصاب اور طریقۂ تدریس میں نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں، جو ڈائریکٹر جنرل سی ایس اے فرحان عزیز خواجہ کی نگرانی میں عمل میں آئیں۔ ان تبدیلیوں کا مقصد عوامی نظم و نسق کو درپیش نئے اور پیچیدہ مسائل سے نمٹنے کے لیے افسران کو بہتر طور پر تیار کرنا ہے۔ ان مسائل میں موسمیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ، ڈیجیٹل نظام کا فروغ، عوامی صحت کے مسائل، مالی دباؤ اور سرکاری اداروں پر عوامی اعتماد میں کمی شامل ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں صرف فنی اور انتظامی مہارت کافی نہیں بلکہ افسران میں بہتر فیصلہ سازی، اخلاقی حساسیت، عوام سے ہمدردانہ رویہ اور انسانی وقار کا شعور بھی ضروری ہے۔ اسی سوچ کے تحت سی ایس اے نے روایتی کلاس روم تعلیم کے ساتھ ساتھ عملی اور تجرباتی تربیت کو بھی نصاب کا حصہ بنایا ہے، تاکہ افسران زمینی حقائق کو براہِ راست دیکھ سکیں۔کمیونٹی اٹیچمنٹ کے لیے پروبیشنری افسران کو چھ گروپوں میں تقسیم کیا گیا، جنہوں نے لاہور کے مختلف سماجی فلاحی اداروں کا دورہ کیا۔ ان اداروں میں شیلٹر ہوم بند روڈ، چلڈرن ہوم (فی میل) ٹاؤن شپ، اولڈ ایج ہوم سوشل ویلفیئر کمپلیکس ٹاؤن شپ، ماڈل چلڈرن ہوم سمن آباد اور سویٹ ہوم جوڈیشل کالونی شامل تھے، جہاں افسران نے بچوں اور بزرگوں کی رہائش، خوراک، تعلیم، علاج اور دیگر سہولیات کے بارے میں آگاہی حاصل کی۔ دوروں کے دوران افسران نے یتیم بچوں، بزرگ رہائشیوں، اداروں کے منتظمین، نگران عملے اور سماجی کارکنوں سے تفصیلی بات چیت کی۔ ان ملاقاتوں کے دوران افسران کو معلوم ہوا کہ کس طرح محدود وسائل میں ان اداروں کو چلایا جا رہا ہے اور کن مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ دورے 53ویں کامن ٹریننگ پروگرام کے تحت ’’لرننگ فرام کمیونٹیز‘‘ فریم ورک کا حصہ تھے، جس کے ذریعے پروبیشنری افسران کو مختلف معاشرتی طبقات سے جوڑنے اور انہیں عملی تجربات فراہم کرنے کا عمل جاری ہے۔ اکیڈمی حکام کا کہنا ہے کہ اس طرح کی سرگرمیاں افسران کو محض نصابی علم تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں ذمہ دار، باخبر اور عوام دوست سرکاری افسر بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔

ملک بھر سے سے مزید