• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قارئین! غزہ کے نام پر سامنے آنیوالا نیا امریکی منصوبہ بظاہر امن کی زبان بولتا ہے، مگر اسکی ساخت، اختیار اور طریقہ کار سنجیدہ خدشات کو جنم دے رہے ہیں۔ یہ کوئی واضح فریم ورک نہیں بلکہ ایک مبہم خاکہ ہے جس میں طاقت،سر مایہ اور فیصلہ سازی چند ہاتھوں میں سمٹتی دکھائی دیتی ہے، جن کا فلسطین اور غزہ سے دور کا بھی کوئی تعلق نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ امن کون نہیں چاہتا، اصل سوال یہ ہے کہ امن کس کے اصولوں پر اور کن مقاصد کیلئے قائم کیا جارہا ہے۔ سب سے بنیادی اعتراض یہ ہے کہ اس طرح کا فورم اقوام متحدہ کے کردار کو کہاں لے جا کر کھڑا کرتا ہے۔ اگر عالمی تنازعات کے حل کیلئے ایک متوازی ڈھانچہ تشکیل دیا جارہا ہے، جس میں شمولیت کیلئے بھاری مالی شرط رکھی گئی ہو اور قیادت تاحیات ایک ایسے فرد کے پاس رہے، جو اپنے ہی ملک میں متنازعہ ہے، تو پھر عالمی قانون، سلامتی کونسل اور بین الاقوامی اتفاق رائے کی کیا حیثیت رہ جاتی ہے۔ کیا یہ طریقہ نو آبادیاتی دور کی یاد نہیں دلاتا، جہاں فیصلے مقامی فریقین کے بغیر طاقتور دارالحکومتوں میں ہوتے تھے۔ اس منصوبے میں سب سے تشویشناک پہلو فلسطینی نمائندگی کا فقدان ہے۔ غزہ جس مسئلے کا مرکز ہے، اسی کے اصل فریق کو فیصلہ سازی سے باہر رکھنا انصاف، شفافیت اور پائیدار حل کے تمام دعووں کو کمزور کر دیتا ہے۔ غزہ کو محض ایک آغاز قرار دے کر دیگر عالمی تنازعات تک پھیلنے کا عندیہ دینا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ محض ایک علاقائی کوشش نہیں بلکہ ایک وسیع سیاسی اور معاشی ایجنڈا ہو سکتا ہے۔ یہاں یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ماضی میں اعلان کردہ اقدامات کا کیا انجام ہوا۔ جنگ بندی کے دعوے، تحفظ کے وعدے اور انسانی امدادکے اعلانات زمینی حقیقت کو تبدیل نہ کر سکے،فلسطینیوں کا قتل عام بدستور جاری ہے۔ اگر پہلے مرحلے کے نتائج واضح نہیں،تو دوسرے مرحلے پر اعتماد کیسے کیا جائے؟ خاص طور پر اس وقت، جب بمباری اور جانی نقصان کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا۔ اس پورے منظر نامے میں یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ امن کے نام پر سر مایہ کاری، تعمیر نو اور کاروباری مواقع کو ترجیح دی جارہی ہے، جبکہ اصل سیاسی مسئلہ پس منظر میں جارہا ہے۔ جب تک قبضہ ختم نہیں ہوتا اور ایک خود مختار فلسطینی ریاست وجود میں نہیں آتی، اس طرح کے تمام انتظامی اور مالی منصوبے عارضی ثابت ہوں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور عالم اسلام کو چاہیے کہ اس منصوبے کا نہایت باریک بینی سے جائزہ لیں۔ فیصلے جذبات یا دباؤ میں نہیں بلکہ آزا درائے، اجتماعی مشاورت اور فلسطینی عوام کے حقیقی مفادات کو سامنے رکھ کر کئے جائیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ غزہ کے نام پر کوئی نیا استعمارجنم لے اور اسرائیل اپنی جنگ مسلم ممالک کے کندھوں پر بندوق رکھ کر جیت لے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ کیلئے امن بورڈ قائم کر دیاہے۔ٹرمپ نے وزیر اعظم محمد شہباز شریف کو غزہ کیلئے قائم بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔بورڈ میں فلسطینی نمائندگی غائب، بورڈ کے سر براہ صدر ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ میں متنازع ترین شخصیت ٹونی بلیئر، امریکی وزیر خارجہ مارکو رو بیو، اپنے داماد جیرڈ کشنر ارب پتی کاروباری شخصیت مارک روون اپا لو گلوبل، ورلڈ بینک کے سر براہ اجے بانگا، امریکی قومی سلامتی کی ٹیم کے رکن گیبریل، بلغارین سیاستدان نکولے ملا دینوف کی نامزدگی کا اعلان کر دیا ہے، وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ بورڈ میں مزید نمائندے بھی شامل ہوں گے۔ امریکی صدر نے ترک صدر رجب طیب ایردوان، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، کینیڈین وزیر اعظم اور ارجنٹائن کے صدر کو بھی بورڈ میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔دوسری جانب امریکی پابندیوں کے باعث بھارت ایران کی چا بہار بندرگاہ سے عملی طور پر علیحدگی اختیار کر رہا ہے۔ بھارت نے پابندیاں لاگو ہونے سے قبل ایران کو اپنی طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم ادا کر دی ہے جسکے بعد اب ایران اس سرمائے کو بھارت کی شمولیت کے بغیر بندرگاہ پر سرگرمیوں کیلئے استعمال کر سکتا ہے۔ چا بہار بندرگاہ کی ذمہ دار پبلک سیکٹر کمپنی، انڈیا پورٹس گلوبل لمیٹڈ (IPGL) کے بورڈ پر حکومت کے نمائندے بھی اجتماعی طور پر مستعفی ہو گئے ہیں۔چا بہار سے بھارت کی عملی پسپائی محض ایک تجارتی یا تکنیکی معاملہ نہیں، یہ جنوبی ایشیا میں بھارت کی مجموعی خارجہ پالیسی کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ برسوں تک جس بندرگاہ کو نئی دہلی نے اپنی علاقائی برتری، پاکستان کو بائی پاس کرنے اور سی پیک کو نقصان پہنچانے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، وہی منصوبہ امریکی دباؤ کے سامنے بے بس ہو کر دم تو ڑ گیا۔ ایران کے ساتھ طویل المدتی معاہدہ کرنے کے بعد اچانک ہاتھ کھینچ لینا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی سفارتکاری اصولوں پر نہیں بلکہ مفاد پرستی اور دوہرے معیار پر کھڑی ہے، لیکن یہ پسپائی خطے کے امن کیلئے اہم پیش رفت ہے کیونکہ کلبھوشن یادیو کے اعترافات سے لیکر ایران اور اسرائیل کے تناظر میں سامنے آنے والی گرفتاریوں تک، یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بھارتی پورٹ کمپنیاں در اصل خفیہ ایجنسیوں کے فرنٹ آفس کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ اس بندرگاہ کو پاکستان اور ایران کیخلاف دہشتگردی کیلئے استعمال کیا گیا۔ افغانستان کو متبادل کے طور پر دیکھنا بھی ایک خام خیالی ہے، کیونکہ وہاں تک وسائل اور اثر و رسوخ قائم رکھنا نہ آسان ہے نہ پائیدار۔ کابل حکومت کی جو دشمنی پاکستان سے تھی، وہ بھی اسی مصنوعی سہارے پر کھڑی تھی۔ بنگلہ دیش اور میانمار کا جھکاؤ، بڑھتا ہوا علاقائی دباؤ اور سفارتی ناکامیاں اس زوال کی علامت ہیں۔ جنوبی ایشیا میں استحکام بالا دستی یا سازش سے نہیں بلکہ برابری، حقیقت پسندانہ تعلقات اور باہمی احترام سے ہی ممکن ہے۔

تازہ ترین