اسلام آباد ( طاہر خلیل )سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی ہفتے کو ایک اعلیٰ سیکورٹی عہدیدار سے خصوصی نشست ہوئی جس میں شرکاء کے ساتھ اہم سیکورٹی معاملات پر کھل کر بات چیت کی گئی ۔ حکام نے شرکاء کے تمام سوالات کے تفصیلی جوابات دیئے۔ سیکورٹی ذرائع نے کہا کہ موجودہ سیاسی قیادت قابل احترام ہے جس نے وقت کے تقاضوں کے مطابق مشکل لیکن بروقت اور دلیر فیصلے کیے، پاکستان کی افواج حماس کو غیر مسلح کرنے میں حصہ دار نہیں ہونگی، کسی صوبائی حکومت کو سیکورٹی بریفنگ کیلئے وفاق سے رجوع کرنا چائیے۔ سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سیاست، مالی فائدے یا مذہب کا لبادہ اوڑھ کر دہشت گردی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، فوج اور قوم کے درمیان کوئی دراڑ نہیں ڈال سکتا، نہ ہی کسی کو اس کی اجازت دی جائے گی۔ سیکورٹی ذرائع نے کہا کہ پاکستان کبھی بھی فلسطینی عوام کی امنگوں کے خلاف نہیں جائے گا، اس وقت غزہ میں ہونے والی خونریزی کو روکنا ہماری اور دوست مسلمان ممالک کی اولین کوشش ہے۔سیکورٹی ذرائع نے کہا کہ کسی بھی فورس کی تشکیل، مینڈیٹ اور تعیناتی کا ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا، امن بورڈ کا قیام غزہ کی تعمیرِ نو اور بحالی کے لیے ہے، سیکورٹی ذرائع نے کہاکہ افواج کی بیرون ملک کسی بھی تعیناتی کا فیصلہ حکومت کا استحقاق ہے ، سیکورٹی ذرائع نے کہا کہ پاکستان کی افواج حماس کو غیر مسلح کرنے میں حصہ دار نہیں ہونگی۔ حماس کو غیر مسلح کرنے میں شرکت ہماری ریڈ لائن ہے پاکستان فلسطین کے مسئلے پر اپنے اصولی مؤقف پر آج بھی قائم ہے اور ہمیشہ قائم رہے گا ۔ سیکورٹی ذرائع نے کہاکہ غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ 8 بڑےاسلامی ممالک سے مشاورت اور مکمل سوچ بچار کے بعد کیا، سیکورٹی ذرائع نے کہاکہ پاکستان چین تعلقات مضبوط اور اسٹریٹجک ہیں اور باہمی مفادات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مزید مستحکم ہو رہے ہیں ،بھارت اور افغان طالبان کے گٹھ جوڑ سے پاکستان میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا ہے۔ سیکورٹی ذرائع نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کی حق خودارادیت کے حصول اور مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کرانے کیلئے تمام کوششیں بروئے کار لاتا رہے گا-