کوئٹہ (اسٹاف رپورٹر)شمالی بالائی بلوچستان میں برفباری کا سلسلہ اگرچہ تھم گیا ہےلیکن سائبیرین ہواؤں کا راج برقرار ہے،شدید سردی کے سبب کوئٹہ، قلات، چمن اور زیارت میں گھروں کی پائپ لائنوں میں پانی جم گیا جبکہ تالابوں اور سڑکوں پر بھی پانی منجمد ہوگیا۔ یخ بستہ موسم کی وجہ سے کوئٹہ سمیت سرد علاقوں میں گھروں اور دفاتر میں پانی کی ٹنکیوں اور نلکوں کا پانی تین روز بعد بھی بحال نہیں ہو سکا،شہریوں کو پینےکے پانی کی قلت کا سامنا ہےحالیہ بارش اور برفباری کےبعد وادی کوئٹہ، قلات اور زیارت سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقے شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں، ان علاقوں میں یخ بستہ ہوائیں چلنے سے درجہ حرارت نقطہ انجماد سے کئی درجے گر گیا ہے، یہی نہیں صوبے کے گرم ترین علاقوں میں بھی موسم شدید سرد ہو گیا ہے۔،ایندھن کے متبادل اور کم لاگت ذرائع کی عدم دستیابی نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث لوگ شدید سردی میں خود کو گرم رکھنے کے لیے پریشانی کا شکار ہیں،کوئٹہ زیارت شاہراہ کئی مقامات پر برف سے ڈھکی ہوئی ہے،چمن، قلعہ عبداللہ، زیارت، پشین، توبہ اچکزئی، اور دیگر علاقوں میں نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا، بالائی اور پاک افغان سرحدی علاقوں میں درجہ حرارت منفی 12 تک گرگیا۔انتظامیہ کی جانب سے نمک پاشی اور جدید مشینری سے برف کو ہٹانے کے لیے آپریشن کیا جارہا ہے۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے بتایا کہ این ایچ اے کی بالائی علاقوں میں پھسلن سے بچاؤ کے لیے نمک پاشی جاری ہے۔دوسری جانب پلمبرپانی کےپائپ درست کرنے کے منہ مانگے دام وصول کر رہے ہیں۔