کراچی (اسد ابن حسن) ایف آئی اے گوجرانوالہ کے ہاتھوں گرفتار نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی گوجرانوالہ کے دو اہلکاروں اور ایک سہولت کار نے ایک حساس ادارے کی تحویل میں اپنے ویڈیو پیغامات میں رشوت وصول کرکے دو ڈپٹی ڈائریکٹروں کو ان کا حصہ دینے کے شواہد پیش کر دیئے۔ کارپوریٹ کرائم سرکل گوجرانوالہ کے سربراہ رانا شاہ ویز کا کہنا تھا کہ وڈیو بیانات مقدمہ درج ہونے سے پہلے "کہیں اور" ریکارڈ ہوئے ہیں اور وہ ان بیانات کی تصدیق کر رہے ہیں اور ابھی ملزمان کا چار روزہ ریمانڈ باقی ہے جس میں مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔ کلرک اللہ یار جو این سی سی آئی اے گوجرانوالہ کا آفس سپرنٹنڈنٹ اور پی ایس او ٹو ڈپٹی ڈائریکٹر ہاشم محمود گجر تعینات تھا اس نے دعوی کیا کہ 45 فیصد حصہ ڈپٹی ڈائریکٹر ہاشم گجر کو اور باقی 55 فیصد تفتیشی افسران اور دیگر عملے میں تقسیم کیا جاتا تھا۔ اور اس تعیناتی کے دوران اس نے ایک کروڑ 57 لاکھ روپیہ وصول کر کے تقسیم کیا۔ اسی طرح اے ایس آئی شہروز نے دعوی کیا جس مقدمے میں وہ گرفتار ہوا ہے اس میں اس نے مدعی کے بیٹوں پر تشدد کیا اور 28 لاکھ روپے وصول کیے اور ڈپٹی ڈائریکٹر ندیم احمد میو کو 28 لاکھ وصول کرنے کی تصدیق کی۔ وصول ہونے والی رقم میں سے آٹھ لاکھ روپے ندیم احمد میو کو دے دیئے گئے باقی تفتیشی افسر امیر حمزہ بھٹہ اور دیگر افسران اور پرائیویٹ پرسنز میں تقسیم کر دیئے گئے۔