اسلام آباد (مہتاب حیدر)ملک بھر میں غیر قانونی سگریٹ کی بھرمار، صرف 22برانڈز قانون کے پابند نکلے، آئی پی اور آر کی رپورٹ کے مطابق ملک میں فروخت ہونیوالے477سگریٹ برانڈز میں سے 441ٹیکس اسٹیمپس سے محروم۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے واضح ہدایات کے باوجود، ملک بھر میں ریٹیل کی سطح پر فروخت ہونے والے سگریٹ کے کل 477 برانڈز میں سے صرف 22 برانڈز ایسے پائے گئے ہیں جن پر ’ٹریک اینڈ ٹریس اسٹیمپس‘ موجود ہیں۔ انسٹیٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ کی جانب سے کیے گئے ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ریٹیل سطح پر فروخت ہونے والے سگریٹ برانڈز کی تعداد میں 66 کا اضافہ ہوا اور گزشتہ سال یہ تعداد 477 تک پہنچ گئی، جن میں سے صرف 22 برانڈز پر ٹریک اینڈ ٹریس اسٹیمپس لگے ہوئے ہیں، جبکہ 14 برانڈز اسٹیمپس کے ساتھ یا بغیر فروخت کیے جا رہے ہیں۔ تاہم، مقامی طور پر تیار کیے جانے والے 121 سگریٹ برانڈز ایسے ہیں جن پر ٹریک اینڈ ٹریس اسٹیمپس موجود نہیں ہیں۔ حیران کن طور پر، اسمگل شدہ سگریٹ کے 320 برانڈز بھی ریٹیل سطح پر بغیر کسی ٹریک اینڈ ٹریس اسٹیمپس کے فروخت ہو رہے ہیں۔ صرف 49 فیصد برانڈز ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم اور متعلقہ ریگولیٹری تقاضوں پر مکمل عمل درآمد کر رہے ہیں، جبکہ 51 فیصد برانڈز ایسے ہیں جو ان قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ ان 49 فیصد غیر تعمیل شدہ برانڈز میں سے 46 فیصد اسمگل شدہ ہیں، جبکہ 54 فیصد مقامی طور پر تیار کیے گئے ہیں جن پر ڈیوٹی یا ٹیکس ادا نہیں کیا گیا۔ دیہی علاقوں میں 56 فیصد برانڈز قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، جبکہ صرف 44 فیصد قانونی تقاضوں پر پورا اترتے ہیں۔