دنیا بھر میں آج صاف توانائی کا دن منایا جارہا ہے، پاکستان نے سال 2015 میں پیرس معاہدے میں صاف توانائی کو سال 2030 تک 60 فیصد تک پہنچانے کا وعدہ کیا تھا۔
صاف توانائی سے مراد ایسی توانائی ہے جو ماحول کو آلودہ کیے بغیر، گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج کیے بغیر اور قدرتی وسائل کو نقصان پہنچائے بغیر حاصل کی جائے۔
اس توانائی کے پائیدار ذرائع میں شمسی، ہوائی اور ہائیڈرو پاور پر مشتمل ہے پاکستان میں توانائی کے شعبہ کا زیادہ انحصار درآمدی ایندھن آئل، گیس اور کوئلہ پر ہے، جو ملکی زرمبادلہ اور گردشی قرضوں پر 2.6 ٹریلین روپے کا بوجھ ڈالتا ہے۔
پاکستان بھر میں صاف توانائی کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ سولر پلیٹس ہیں، یہ سولر پلیٹس ماحول کو صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ سستی بجلی کے حصول میں ایک موثر زریعہ بن گئی ہیں ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق پاکستان نے سال 2024 میں 17 گیگا واٹس سولر پینلز درآمد کیے جو ملک کی مجموعی توانائی کی پیداواری صلاحیت کا 36 فیصد بنتا ہے۔
حکومت کی نئی انرجی پالیسی کے تحت نیٹ میٹرنگ کو نیٹ بلنگ میں تبدیل کر دیا گیا ہے شہریوں کے مطابق یہ پالیسی صاف توانائی کے فروغ میں رکاوٹ کا سبب بن سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق صاف توانائی کا استعمال نہ صرف ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں مدد دے گی بلکہ ایندھن کی درآمدات پر خرچ ہونے والے خطیر زرمبادلہ میں کمی لانے کا سبب بھی بنے گی۔