• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مری کی برف باری، انتظامیہ اور فوج کی خدمات اور انتظامات کا آنکھوں دیکھا حال

انصار عباسی

اسلام آباد … دو روز قبل ایک طویل عرصے بعد مری میں غیر معمولی اور حالیہ برسوں کی شدید ترین برف باری دیکھنے کو ملی۔ میں اسلام آباد کا رہائشی ہوں لیکن مری میری پہچان ہے اور میری جڑیں وہاں پیوست ہیں۔ رات بھر جاری رہنے والی برف باری کے چند ہی گھنٹوں بعد میں نے علی الصبح اپنے آبائی علاقے جانے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ انتظامیہ نے 17؍ میل ٹول پلازہ پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں اور گاڑیوں کو آگے جانے سے روکا جا رہا تھا، جو بنیادی طور پر عوامی تحفظ کے پیش نظر کیا گیا اقدام تھا، تاہم اس فیصلے سے مقامی آبادی کیلئے پریشانیاں پیدا ہوئیں۔ مری کے وہ رہائشی جن کے خاندان، گھر اور روزگار اسی علاقے سے وابستہ ہیں، ان کے ساتھ بھی سیاحوں جیسا سلوک کیا گیا۔ سیاحوں کے برعکس، مقامی افراد کو یوں ہی واپس نہیں بھیجا جا سکتا کیونکہ ان کی زندگیاں اسی علاقے سے جڑی ہیں۔ اگرچہ حفاظتی تقاضے اپنی جگہ قابلِ فہم ہیں، تاہم آئندہ پالیسیوں میں سیاحوں اور مقامی باشندوں کے درمیان واضح فرق ملحوظِ خاطر رکھنا ناگزیر ہے۔ ان پابندیوں کے باوجود میں لوئر ٹوپہ اور جھیکا گلی کے راستے علی الصبح مری پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ سب سے نمایاں بات یہ تھی کہ سڑکیں پہلے ہی صاف کی جا چکی تھیں۔ خواہ یہ کام رات کے دوران کیا گیا ہو یا صبح سویرے، برف ہٹانے کے انتظامات موثر اور بروقت نظر آئے۔ مرکزی شاہراہیں مکمل طور پر کھلی تھیں اور سفر کے دوران مجھے کسی مرحلے پر کسی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یہ صورتحال ماضی کے تجربات کے برعکس تھی، جب معمولی برف باری بھی پورے شہر کو مفلوج کر دیا کرتی تھی۔ اگرچہ بعض اندرونی مقامات پر مقامی اہلکاروں نے ممکنہ طور پر رش سے بچنے کیلئے عارضی طور پر گاڑیوں کو روکا لیکن یہ رکاوٹیں غیر ضروری محسوس ہوئیں، خصوصاً اس تناظر میں کہ مری میں داخلے پر پہلے ہی بیرونی مقامات پر سخت کنٹرول نافذ تھا۔ دن بھر وقفے وقفے سے برف باری کا سلسلہ جاری رہا۔ جب میں شام کے وقت واپسی کیلئے اسلام آباد روانہ ہوا تو مرکزی شاہراہ اور ایکسپریس وے مجموعی طور پر صاف تھے۔ اگرچہ مری میں داخل ہونے والی گاڑیوں کیلئے ون وے ٹریفک کی اجازت کے باعث کچھ مقامات پر ٹریفک کا دبائو نظر آیا، لیکن رکاوٹوں کو موثر انداز میں سنبھالا گیا اور بتدریج ٹریفک بحال ہوتی رہی۔ البتہ بھوربن کشمیر بازار کے راستے واپسی پر صورتحال مختلف تھی۔ کھڑی چڑہائی والے مقام گھڑیال پر برف اب تک صاف نہیں ہو پائی تھی۔ تقریباً 15؍ سے 20؍ گاڑیاں وہاں پھنس چکی تھیں اور چڑھائی طے کرنے سے قاصر تھیں۔ وہاں جو منظر میں نے دیکھا، اس نے گہرا اثر چھوڑا۔ برف ہٹانے والی مشینری کے پہنچنے سے قبل ہی پاک فوج کے جوان اور افسران موقع پر پہنچ گئے۔ میں نے خود وردی میں ملبوس ایک میجر اور ایک لیفٹیننٹ کو بھی دیکھا۔ انہوں نے کسی سے اس کی شناخت، پس منظر یا سیاسی وابستگی کے بارے میں کوئی سوال کیے بغیر ایک ایک کر کے گاڑیاں نکالنا شروع کیں۔ مردوں سمیت تمام مسافر گاڑیوں کے اندر ہی بیٹھے رہے، جبکہ فوجی جوان خود گاڑیاں دھکیلتے رہے یہاں تک کہ وہ مشکل حصے کو عبور کر گئیں۔ جو بھاری گاڑیاں ہاتھوں سے حرکت میں نہ آ سکیں، انہیں فوجی گاڑیوں کی مدد سے کھینچ کر محفوظ مقام تک پہنچایا گیا۔ جب میری گاڑی اس مشکل حصے سے نکل آئی تو ایک فوجی جوان قریب آیا اور کہا آئیں چائے پئیں اور چند لمحے آرام کر لیں۔ فوجی جوان نے یہ بات خصوصاً صرف میرے لیے نہیں کہی بلکہ دیگر ڈرائیوروں کو بھی اسی خلوص کے ساتھ کہی جا رہی تھی۔ نہ کوئی سوال، نہ تفریق اور نہ کوئی تاخیر۔ ایسے وقت میں جب سیاسی اختلافات اکثر اداروں کے بارے میں مجموعی اور سخت فیصلوں کو جنم دیتے ہیں، یہ منظر ایک یاد دہانی تھا کہ سیاست سے بالاتر ہو کر یہی وہ فوج ہے جو مشکل لمحات میں عام شہریوں کی مدد کیلئے خاموشی سے، بغیر کسی تشہیر اور کیمروں کے، اپنا فرض ادا کرتی ہے۔ مجموعی طور پر برف باری کے دوران سول انتظامیہ کا کردار بھی ماضی کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر نظر آیا۔ سڑکوں کی بروقت صفائی، ٹریفک کے نظم و نسق اور جانی نقصان سے بچائو کے اقدامات قابلِ ستائش تھے۔ سیاحوں کے انتظام کے حوالے سے بھی مجموعی طور پر انتظامات بہتر دکھائی دیے۔ تاہم اس کے فوراً بعد ایک اور سنگین مسئلہ سامنے آیا۔ مری کے بڑے رہائشی اور دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہی۔ خصوصاً دیہات میں مقامی آبادی کو طویل لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ درجہ حرارت مسلسل گرتا جا رہا تھا۔ میں نے اس مسئلے کو سوشل میڈیا پر اٹھایا اور وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کی توجہ اس سنگین صورتحال کی جانب مبذول کرائی۔ اس کے بعد مجھے وزیراعظم آفس سے فون موصول ہوا، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خود ایکس (ٹوئٹر) پر ردِعمل دیتے ہوئے آئیسکو کو ہدایت جاری کی کہ متاثرہ علاقوں میں فوری بنیادوں پر بجلی بحال کی جائے۔ گزشتہ برسوں کے دوران مری کے مکینوں کی ایک مستقل شکایت رہی ہے کہ برف باری کے مواقع پر انتظامیہ کی تمام تر توجہ سیاحوں پر مرکوز رہتی ہے، جبکہ مقامی آبادی خصوصاً دیہی علاقہ جات کے لوگوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ اس مرتبہ ردِعمل نسبتاً بہتر تھا، تاہم ایک واضح سبق اب بھی باقی ہے۔ اگر مرکزی شاہراہوں اور سیاحتی راستوں کو ترجیحی بنیادوں پر کھولا جا سکتا ہے تو یہی سنجیدگی دیہی سڑکوں، بجلی کی فراہمی اور مقامی آبادی کی بنیادی سہولتوں کیلئے بھی ہونا چاہئے۔ ترقی اور ریلیف کسی ایک طبقے تک محدود نہیں ہو سکتے۔ برف باری یقیناً سیاحوں کو متوجہ کرتی ہے، لیکن مری محض ایک تفریحی مقام نہیں بلکہ ہزاروں خاندانوں کا گھر ہے، جو مساوی توجہ، عزت اور منصوبہ بندی کے حق دار ہیں۔ حالیہ برف باری کے دوران بہتر باہمی رابطہ، زمینی سطح پر محنت اور سول انتظامیہ کے ساتھ مسلح افواج کی قابلِ تحسین خدمات واضح تھیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک مستقل اور واضح پالیسی اختیار کی جائے، جس میں مقامی آبادی کو بعد کی ترجیح نہیں بلکہ اولین ترجیح سمجھا جائے۔

اہم خبریں سے مزید