ہارر فلم……
’’میں اس بار سوشل نہیں، ہارر فلم بناؤں گا۔‘‘
ملک کے ایک معروف ڈائریکٹر نے اعلان کیا۔
یہ ایک ایسے مُردے کی کہانی ہے، جو تاحال زندہ ہے۔
چل پھر رہا ہے، کھا پی رہا ہے، ہنس بول رہا ہے،
مگر اندر سے مر چکا ہے۔ تین دن بعد آڈیشن ہوگا۔
جو یہ کردار نبھا سکتا ہے، اپنی قسمت ضرور آزمائے۔
آڈیشن والے دن پورا شہر ہی اسٹوڈیو امڈ آیا۔
ہزاروں لوگ، شور، دھکم پیل، لڑائی جھگڑا۔
خاصا ڈراؤنا منظر ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے تھوک نگلا۔
یہی منظر ہماری حقیقت ہے۔ ڈائریکٹر اداسی سے مسکرایا۔
ہجوم کو ریکارڈ کرو، اور فوٹیج کسی عالمی فیسٹیول میں بھیج دو۔
’’سوشل ڈاکومنٹری کی کیٹگری میں ایوارڈ مل جائے گا۔‘‘