• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نجی اسکولوں میں فائر سیفٹی اقدامات لازمی قرار: ہنگامی انخلا مشقیں سال میں 2 بار ہونگی

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

سندھ بھر کے نجی اسکولوں میں آتشزدگی کے واقعات کے پیشِ نظر حکومتِ سندھ نے فائر سیفٹی اور حفاظتی اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ 

ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز، محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی سندھ کی ایڈشنل ڈائریکٹر پروفیسر رفیعہ ملاح کی جانب سے جاری کردہ سرکاری مراسلے کے مطابق تمام نجی اسکولوں کو فوری طور پر جامع فائر سیفٹی پروٹوکولز نافذ کرنا ہوں گے۔

مراسلے میں کہا گیا کہ تمام اسکول عمارتوں میں فعال فائر الارمز، اسموک ڈیٹیکٹرز اور فائر ایکسٹنگوئشرز کی تنصیب ہر فلور پر لازمی ہوگی جبکہ ان آلات کی باقاعدہ جانچ، سروسنگ اور دیکھ بھال کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔ 

ہنگامی اخراج کے راستے اور سیڑھیاں ہر وقت کھلی رہیں گی جنہیں نمایاں طور پر نشان زدہ اور رکاوٹوں سے پاک رکھنا لازم قرار دیا گیا ہے۔

مراسلے کے مطابق اسکولوں میں بجلی کی وائرنگ، لیبارٹریز، کچن، جنریٹر رومز اور دیگر حساس مقامات کا وقتاً فوقتاً معائنہ مستند ماہرین سے کروانا ہوگا تاکہ آگ اور برقی حادثات کے خدشات کم کیے جا سکیں۔ 

اس کے علاوہ فائر ایویکیوشن پلان، فلور میپس اور ہنگامی ہدایات کو کلاس رومز، راہداریوں اور مشترکہ مقامات پر آویزاں کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔

مراسلے میں واضح کہا گیا ہے کہ ہر تعلیمی سال کے دوران کم از کم دو مرتبہ فائر ڈرِلز کروانا اور ان کا باقاعدہ ریکارڈ رکھنا لازمی ہوگا جبکہ تدریسی اور غیر تدریسی عملے کو ہنگامی حالات، انخلا اور ابتدائی طبی امداد کی تربیت فراہم کی جائے گی۔ خصوصی بچوں، پری اسکول کے طلبہ اور دیگر کمزور طبقات کے محفوظ انخلا کے لیے خصوصی انتظامات کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

محکمہ تعلیم نے ہر اسکول کے لیے عمارت کے باہر واضح اسمبلی پوائنٹ مقرر کرنے اور انخلا کے بعد حاضری کی فوری تصدیق کو بھی لازمی قرار دیا ہے۔ ہنگامی اداروں کی اجازت کے بغیر اسکول میں دوبارہ داخلے پر پابندی ہوگی۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر رجسٹریشن رافیعہ ملاح کے دستخط سے جاری مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان ہدایات پر عملدرآمد نہ کرنے والے اسکولوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ 

اسکول انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس حکم نامے کو عملے میں گردش میں لایا جائے اور اس پر مکمل طور پر عمل کیا جائے۔

قومی خبریں سے مزید