• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یونان کشتی حادثے کے مرکزی ملزم ثاقب ججا کی عبوری ضمانت میں 12 فروری تک توسیع

فائل فوٹو
فائل فوٹو

لاہور ہائیکورٹ نے یونان کشتی حادثے کے مرکزی ملزم ثاقب ججا کی عبوری ضمانت میں 12 فروری تک توسیع کردی۔

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے یونان کشتی حادثے کے مرکزی ملزم ثاقب ججا کی عبوری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی۔

اس موقع پر مدعی کے وکیل نے کہا کہ مدعیوں نے بیان دیا ہے کہ ثاقب ججا ہمارا ملزم نہیں۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ ان مدعیوں کی درخواست پر ہی ایف آئی اے نے کارروائی کی، اب یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ہمارا ملزم نہیں ہے۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ آپ ایک ظالم کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، انسانی زندگی کی کوئی قیمت ہے یا نہیں، میڈیا شور مچاتا ہے کہ ادارے کام نہیں کرتے، آپ نے خود درخواست دی اب کہہ رہے ہیں کہ یہ ہمارا ملزم نہیں۔

مدعی جمیل نے کہا کہ میں قرآن پر حلف دیتا ہوں۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ قرآن بہت بڑا ہے ہم اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔

چیف جسٹس نے ایف آئی اے سے استفسار کیا کہ کیا ان کا بچہ اس حادثے میں بچ گیا تھا۔

وفاقی حکومت کے وکیل نے کہا کہ جی تین مدعیوں کے بچے یونان حادثے میں بچ گئے تھے۔

 چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کا بچہ بچ گیا تھا، ظالم کو بچانے کی کوشش مت کریں، جو کہتے ہیں یہ سادہ لوگ ہیں، یہ سادہ لوگ نہیں ہیں، آپ لوگ عدالت میں سچ نہیں بول رہے، یہ ملک ایسے ٹھیک نہیں ہوگا آگے آنا پڑے گا۔

علاوہ ازیں عدالت نے تمام مدعیوں کو کل 12 بجے اسپشل سینٹرل کورٹ  میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے کہا کہ ان سب کے بیانات کی تصدیق کریں، ان کے انگوٹھوں کے نشانات کا فرانزنک کرائیں، اگر ثابت ہوا کہ مدعیوں نے درخواست دی تھی تو پھر جھوٹا بیان دینے پر ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔

قومی خبریں سے مزید