پاکستان اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان آئندہ مذاکرات کے معاملے پر نئی حکمتِ عملی طے پائی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف سے کچھ شعبوں میں رعایتیں لینے کی تیاری شروع کر دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے آئی ایف سے ٹیکس وصولیوں کے ہدف اور توانائی کی قیمتیں کم کرنے کی درخواست کی جائے گی۔
وزارتِ خزانہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف سے مذاکرات میں از سرِ نو ترجیحات متعین کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع نے کہا ہے کہ متعلقہ محکمے آئی ایم ایف سے ریلیف حاصل کرنے کے لیے 2 ہفتوں میں تجاویز وزارتِ خزانہ کو دیں گے، وزارتِ صنعت و پیداوار صنعتی شعبے کی مشکلات کم کرنے کے لیے تجاویز تیار کر رہی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے ذرائع نے کہا ہے کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف سے آئندہ مذاکرات میں صنعتوں کی بحالی کے لیے ریلیف حاصل کرنے کی حکمتِ عملی بنانے کی ہدایت کی ہے۔
ذرائع نے کہا ہے کہ ایم ڈی آئی ایم ایف نے قرض پروگرام میں رہتے ہوئے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، آئی ایم ایف کو معاشی گروتھ کے لیے حکومتی ترجیحات سے آگاہ کیا جائے گا۔
ذرائع وزارتِ خزانہ کے مطابق صنعتوں اور بڑی کمپنیوں کے لیے سُپر ٹیکس اور پاور ٹیرف میں کمی کی تجاویز تیار کی جا رہی ہیں۔