قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز کی زیرِ صدارت منعقد ہوا جس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں جگہ جگہ ناکہ بندی کے خلاف کمیٹی اراکین پھٹ پڑے۔
اجلاس میں ڈی آئی جی ٹریفک محمد ہارون اور سی ٹی او ٹریفک پولیس حمزہ ہمایوں نے کمیٹی کو بریفنگ دی جبکہ چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز نے ٹریفک حکام کی سرزنش کی۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے کمیٹی کو بتایا کہ روزانہ 3 سے 4 لاکھ گاڑیاں اسلام آباد میں داخل ہوتی ہیں، کچہری چوک بند ہے، ترقیاتی کاموں کی وجہ سے ٹریفک جام بڑھ گیا، ایکسپریس ہائی وے پر ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نوازنے سوال کیا کہ ہم نے آئی جی اسلام آباد کو یہاں طلب کیا تھا وہ کیوں نہیں آئے؟ آپ نے ہر جگہ ناکے کیوں لگائے ہیں؟ ٹریفک جام ہے، ہر جگہ لوگوں کو عذاب میں ڈالا ہوا ہے، میں خود ایک جگہ افتتاح کے لیے گیا تھا، واپسی پر 2 گھنٹے ذلیل ہوا ہوں، 1960ء سے اسلام آباد میں ہیں، پہلے کبھی ہر جگہ ناکے نظر نہیں آئے۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے جواب دیا کہ ہم مختلف مقامات پر ڈیجیٹل سیٹ اپ انسٹال کر رہے ہیں، جس کے باعث گاڑیوں کو روکنا نہیں پڑے گا، کچھ عرصے میں چیزیں بہتر ہو جائیں گی۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے کہا کہ پچھلے ایک سے ڈیڑھ سال سے لوگ اسلام آباد میں ذہنی مریض بن گئے ہیں، یہاں 17 لاکھ گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں، اگلے 2 سے 3 ماہ میں ٹریفک کے حوالے سے چیزیں بہتر ہو جائیں گی۔
چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز نے سوال اٹھایا کہ جب آپ نے داخلی راستوں پر کیمرے لگائے ہیں تو پولیس اہلکار لوگوں کی شکلوں پر کیوں ٹارچ مارتے ہیں؟ آپ کے پولیس اہلکاروں کو تمیز نہیں ہے؟ فیملی کے ساتھ آ رہا تھا، پولیس اہلکار نے اتنی تیز لائٹ میرے منہ پر ماری، آپ نے میری شکل سے کیا نکالنا ہے؟ نمبر پلیٹ پر لائٹ ماریں۔
ٹریفک جام کے خلاف ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نے بھی شدید برہم ہوتے ہوئے کہا کہ جگہ جگہ ناکے ہیں۔
ڈی آئی جی ٹریفک نے کہا کہ سر آپ تو ہمارے ساتھ ہیں۔
ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ نے کہا کہ ایڈیشنل سیکریٹری سے پہلے ایک شہری ہوں، شاہراہِ دستور پر ناکے کا کیا کام ہے؟ گاڑیوں کو روک کر پولیس والا پوچھ گچھ کر رہا ہوتا ہے، پیچھے 100 گاڑی لگ جاتی ہے۔
چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نوازنے کہا کہ اصل میں وہ پولیس والا مک مکا کر رہا ہوتا ہے۔