• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال بڑھ گیا، بچوں کی اسکریننگ ہونی چاہیے: سحر کامران

سحر کامران—فائل فوٹو
سحر کامران—فائل فوٹو

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی رکن سحر کامران نے کہا ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں منشیات کا استعمال بڑھتا جارہا ہے، کالج اور یونیورسٹیوں میں بچوں کی اسکریننگ ہونی چاہیے۔

اسلام آباد میں راجہ خرم نواز کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس کے دوران انہوں نے مطالبہ کیا کہ والدین اور بچے کی رضامندی کے ساتھ اسکریننگ ہونی چاہیے، تعلیمی اداروں میں طلباء کی کونسلنگ کے لیے ماہرِ نفسیات کو رکھا جائے۔

چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز نے کہا کہ ایسا نظام وضع کیا جائے کہ جس سے بچے کی کاؤنسلنگ ہو، اس کا معاملہ خفیہ رکھا جائے، بچوں کی سکریسی برقرار رکھی جائے، بچوں کے والدین کو بھی اعتماد میں لیا جائے، کالج سے لے کر اسمبلی تک تمام لوگوں پر یہ لاگو ہونا چاہیے، بچوں کی زندگیاں تباہ ہو رہی ہیں، اے این ایف حکام اس پر بریفننگ دیں گے۔

سحر کامران نے کہا کہ ہمارے ہاں تعلیمی اداروں میں ری ہیبیلیٹیشن کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔

اے این ایف حکام کا کہنا ہے کہ اسکریننگ ٹیسٹ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ نے لینا ہے، صوبوں میں صوبائی صحت کا ڈپارٹمنٹ ٹیسٹ لے گا، وفاق میں وفاقی ادارہ ٹیسٹ لے گا، اے این ایف یہ ٹیسٹ نہیں لے سکتی، کونسلرز کو تعلیمی اداروں میں بلانا بھی وزارتِ تعلیم کا کام ہے اور وہ صوبائی موضوع ہے۔

سحر کامران نے مطالبہ کیا کہ انسدادِ منشیات کا بل لائی ہوں اس کو منظور کیا جائے۔

ممبران کمیٹی نے مؤقف اپنایا کہ یہ معاملہ صوبوں سے متعلق ہے، ان کو ہی بھیجا جائے۔

کمیٹی نے منشیات کنٹرول ترمیمی بل 2025ء کو مسترد کر دیا۔

دورانِ اجلاس چیئرمین کمیٹی راجہ خرم نواز نے استفسار کیا کہ چیئرمین سی ڈی اے کہاں ہیں؟ کمیٹی میں کیوں نہیں آئے؟

وزیرِ مملکت برائے داخلہ نے جواب دیا کہ چیئرمین سی ڈی اے چیف جسٹس کے ساتھ میٹنگ میں ہیں۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے چیئرمین سی ڈی اے کو نوٹس جاری کر دیا، نوٹس چیئرمین اور سی ڈی اے کی جانب سے کسی بھی افسر کی کمیٹی میں عدم موجودگی پر جاری کیا گیا۔

ممبر کمیٹی قادر پٹیل نے کہا کہ ہمارے ہاں ڈیٹا لیک کر دیا جاتا ہے، یہاں تو نادرا کا ڈیٹا بھی لیک ہو جاتا ہے۔

قومی خبریں سے مزید