کینیڈا کی میک گل یونیورسٹی اور یونیورسٹی لاوال کے محققین کی ٹیم نے سماجی تعلقات اور ذہنی صحت کے درمیان تعلق پر ایک نئی تحقیق کی ہے۔
اس نئی تحقیق میں محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ سماجی تعلقات بوڑھے افراد کی علمی صلاحیت پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں؟
محققین نے کینیڈین لونگیٹیوڈینل اسٹڈی آن ایجنگ (CLSA) میں تقریباً 30 ہزار ایسے شرکاء کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا جن کی عمر 45 سے 84 سال تھی۔
انہوں نے 24 مختلف سماجی پہلوؤں کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنی تحقیق کے نتائج کو اخذ کیا۔
محققین نے تحقیق کے دوران عمر رسیدہ افراد کی علمی صحت کا اندازہ 3 ڈومینز ایگزیکٹو فنکشن، ایپیسوڈک میموری اور پروزپیکٹیو میموری میں لگایا ہے۔
اس تحقیق میں سماجی تعلقات اور علمی کارکردگی کے درمیان اہم وابستگی پائی گئی۔
تحقیق کے نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ متوسط اور مضبوط سماجی ماحول سے تعلق رکھنے والے افراد کی علمی کارکردگی کمزور سماجی ماحول سے تعلق رکھنے والے افراد کی علمی کارکردگی سے بہتر ہے۔
اس تحقیق کی شریک مصنف ڈیوا نیلسن کا کہنا ہے کہ نئی تحقیق کے نتائج بھی گزشتہ تحقیقات کے نتائج جیسے ہی ہیں۔
اُنہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کمزور سماجی تعلقات سگریٹ نوشی، جسمانی بیماریوں اور موٹاپے کی طرح ہی صحت کے لیے خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔