کراچی (نیوز ڈیسک) برطانوی اخبار ’دی گارڈین‘ کے ایک تجزیے سے پتا چلا ہے کہ دنیا بھر میں لاکھوں لوگ محفوظ میسجنگ ایپ ٹیلی گرام پر ’ڈیپ فیک‘ برہنہ تصاویر اور ویڈیوز بنا رہے ہیں اور انہیں شیئر کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، مصنوعی ذہانت کے جدید ٹولز کے پھیلاؤ نے خواتین کے خلاف آن لائن بدسلوکی اور ہراساں کیے جانے کے عمل کو ایک صنعتی شکل دے دی ہے۔ دی گارڈین نے کم از کم 150 ایسے ٹیلی گرام چینلز کی نشاندہی کی ہے۔