• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

برسلز: امریکا میں ’امریکن مصنوعات خریدو‘ مہم کے جواب میں یورپی کمپنیوں کا جوابی وار

برسلز: یورپین یونین کی 1000 سے زائد کمپنیوں، اداروں اور تنظیموں نے امریکی حکومت کی جانب سے امریکہ کے اندر ’امریکن مصنوعات خریدو‘ مہم کے جواب میں ’میڈ ان یورپ‘ لیبل کی باقاعدہ حمایت کردی۔

اس حوالے سے یورپین ذرائع ابلاغ میں شائع خبروں کے مطابق یورپین یونین میں چیک ریپبلک سے لےکر فرانس تک میں تجارتی تنظیموں اور کمپنیوں کی جانب سے ایک نیا تجارتی رد عمل دیکھنے میں آرہا ہے جسے ذرائع ابلاغ پیٹریاٹک یا محب وطن خریداری کی تحریک کا نام دے رہے ہیں۔

ویسے تو یورپ میں میڈ ان یورپ ٹیگ کے ساتھ خریداری کی گفتگو کئی سالوں سے جاری ہے لیکن اس حوالے سے یورپین کمیشن میں موجود فرانس سے تعلق رکھنے والے یورپی یونین کے کمشنر برائے انڈسٹری اسٹیفن سیجورن اس بات کو یقینی بنانے کے لیے عوامی لابنگ کی اپنی کوششیں تیز کر رہے ہیں۔

ان کا موقف ہے کہ یورپین بلاک اپنی مارکیٹ میں زیادہ سے زیادہ پیسہ رکھنے کی کوشش کرے بجائے اس کے کہ اسے امریکہ یا چین میں سمیٹنے دیا جائے۔

ایک درجن سے زیادہ قومی اخبارات میں شائع ہونے والے ’گو یورپین‘ عنوان سے ایک مضمون میں کمشنر نے ایک نیا ’میڈ اِن یورپ‘ لیبل بنانے پر زور دیا جو واشنگٹن کے ’بائی امریکن‘ کو آئینہ دکھانے کےلیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ بین الاقوامی مقابلہ اتنا غیر منصفانہ کبھی نہیں رہا جتنا یہ اب ہوگیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’جیسے بین الاقوامی تجارت کے قوانین کی نئی تعریف کی جا رہی ہے، ہمارے پاس اب اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے ہمیں اپنے سب سے زیادہ اسٹریٹجک شعبوں میں ایک حقیقی یورپی ترجیح قائم کرنی چاہیے۔ یہ ایک بہت ہی سادہ اصول پر مبنی ہے: جب بھی یورپی عوامی پیسہ استعمال ہوتا ہے، اسے یورپی پیداوار اور معیاری ملازمتوں میں حصہ ڈالنا چاہیے۔‘

دوسری جانب ان کی اس گفتگو پر کچھ ملاجلا رد عمل سامنے آرہا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق کمیشن کی سب سے سینئر شخصیات میں سے ایک نے کہا کہ بلاک کے اندر ایک غیر معمولی طریقہ یہ ہے کہ یہاں پالیسی عام طور پر بند دروازوں کے پیچھے بنائی جاتی ہے۔ اس لیے مسٹر سیجورن کو اپنے ساتھیوں کو راضی کرنے کے لیے یہ کافی ہے یا نہیں یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق یورپین کمیشن کی صدر ارسلا ووندر لین نے ماضی میں میڈ ان یورپ کی حمایت کی ہوئی ہے لیکن دوسرے ممالک یہ دلیل دیتے ہوئے پیچھے ہٹ گئے تھے کہ صرف یورپی یونین کے بڑے ممبران ہی ایسی شقوں سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق تاہم اس مرتبہ یورپین کمشنر اکیلے نہیں ہیں بلکہ اس مرتبہ پورے براعظم یورپ سے کمپنیوں اور صنعتی گروپوں کے 1,000 سے زیادہ دستخط کنندگان، نیز بڑی ای یو تجارتی انجمنیں بھی ’میڈ ان یورپ‘ لیبل بنانے کی حمایت کر رہی ہیں۔

برطانیہ و یورپ سے مزید