• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

محمود اچکزئی نےاپنی تقریرمیں بلوچستان کی تاریخ کو مسخ کیا، امان کنرانی

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے گذشتہ روز قومی اسمبلی میں محمود خان اچکزئی کی تقریر کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے اس کو بلوچستان کی تاریخ کو مسخ کرنے سے تعبیر کیا ہے ایک بیان میں انہوں نے کہاہےکہ قومی اسمبلی میں اپنی جماعت کی عددی بے مائیگی کے باوجود تحریک انصاف کے بل بوتے پر انہیں قائد حزب اختلاف کی نشست پر کھڑے ہوکر پارلیمنٹ میں مخاطب ہونے کا جو موقع ملا ہے یقینا” ان کی متعصبانہ تقریر دیگر تمام حزب اختلاف کی جماعتوں کی ترجمانی نہیں ہوسکتی موصوف کی سیاسی بصیرت سے قطع نظر اس کی محدود سوچ نے اس کوتضادات سے بھر پور سوچ تک محدود کردیا ہے حالانکہ انہیں اپنے ضلع و علاقے میں بھی اچکزئی قبائل کے اندر کئی معتبر قبائل کی سیاسی مزاحمت کا سامنا ہے جبکہ بطور مجموعی سیاسی لحاظ سے خوشحال خان کاکڑ کی بڑھتی ہوئی غیر معمولی پذیرائی بھی ان کےقد و کاٹھ پر سوالیہ نشان ہے یوں وہ کسی قوم کے بارے میں کوئی قطعی رائے قائم کرنے کے مجاز و مختار نہیں ہوسکتے ایسے میں بلوچستان کے جغرافیہ کو متنازعہ بنانا حزب اختلاف کا مدعا نہیں ہوسکتا البتہ معروضی حالات کے اندر سرکاری خواہشات کے طابع بلوچ قوم کی تقسیم ضرور مطمع نظر ہے یہ امر واضح ہے کہ بلوچ قوم نہ کسی کا لٹھ بند بزگر ہے نہ بلوچستان کے سرداروں کی ملکیت و جائیداد کا محافظ بلکہ بلوچ قوم بحیثیت مجموعی چرواہے سے لیکر جھگی نشین بلوچ من حیث القوم ہزاروں سال سے اپنی شناخت و سرزمین و ساحل و وسائل کے دفاع میں برسرکار پیکار ہیں بلوچ نا اتفاقی ،معاشی و سیاسی لحاظ سے کمزور ہی سہی مگر زور آور کی طاقت کے سامنے کبھی سرنگوں نہیں رہے انہوں نے اپنی سرزمین کے دفاع میں تاریخ رقم کی شہزادہ عبدالکریم احمدزئی سے لے کر نواب محمد اکبر خان بگٹی شہید کی لازوال قربانیاں اسی جدوجہد کا تسلسل ہیں۔
کوئٹہ سے مزید