کراچی (اسٹاف رپورٹر) بھارت مقبوضہ کشمیر میں پیش قدمی کررہا ہے لیکن ہمارے حکمران خاموش ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم نے فیصلہ کن اقدام کرتے ہوئے اپنے آئین میں کشمیریوں کی خصوصی حیثیت کو ختم کردیالیکن ہمارے حکمرانوں نے کوئی اقدام نہیں کیا۔ یہ بات مرکزی جنرل سکریٹری جماعت اسلامی پاکستان امیر العظیم نے جمعرات کو مزار قائد نیو ایم اے جناح روڈ پر یکجہتی کشمیر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہی ،انھوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کے حل میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان جو کشمیر کا وکیل ہے، مسئلے کو حل نہیں کرنا چاہتا،جب بھی کشمیر کی جدوجہد تیز ہوتی ہے اسلام آباد سے کشمیر کے جھنڈے ہٹالیے جاتے ہیں، جس دن بھارت کا پائلیٹ پکڑا کیا گیا تھا اس وقت حکومت کا مطالبہ ہونا چاہیے تھا کہ سید علی گیلانی کی نظر بندی ختم اور یاسین ملک کو رہا کیا جائے لیکن حکمرانوں نے بزدلی کا مظاہرہ کیا،قبل ازیں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کی زیر قیادت جیل چورنگی تا نیو ایم اے جناح روڈمزار قائد تک یکجہتی کشمیر ریلی نکالی گئی اور شرکاء نے پیدل مارچ کیا۔ منعم ظفر و دیگر رہنماؤں نے ایک بڑا بینراُٹھا یا ہوا تھا جس پر تحریر تھا”5فروری یوم یکجہتی کشمیر، کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی بند کی جائے،شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز و پلے کارڈز بھی اٹھائے ہوئے تھے جن پر”کشمیر میں بھارت کے غاصبانہ تسلط، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف اور اہل کشمیر کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حق خود ارادیت دینے اور کشمیر بنے گا پاکستان سمیت دیگر نعرے درج تھے“۔