پشاور ( آن لائن ) عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے عظیم انقلابی شاعر، دانشور اور سیاسی رہنما اجمل خٹک کی 16 ویں برسی کے موقع پر انہیں شاندار الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجمل خٹک فکری جرات، مزاحمتی سیاست اور لازوال جدوجہد کا استعارہ تھے، جنہوں نے اپنی پوری زندگی محکوم اقوام بالخصوص پختون قوم کے حقوق اور شعور کے لیے وقف کر رکھی تھی۔اپنے بیان میں میاں افتخار حسین نے کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی کے سابق صدر اجمل خٹک صرف ایک شاعر نہیں بلکہ ایک پورا فکری عہد تھے۔ انہوں نے لفظ کو ہتھیار اور فکر کو مشعل بنا کر جبر، استحصال اور آمریت کے خلاف مسلسل جدوجہد کی۔ ان کا قلم ظالم کے لیے لرزہ اور مظلوم کے لیے حوصلے کا ذریعہ تھا۔انہوں نے کہا کہ جیلوں، تشدد، جلاوطنی اور ریاستی دباؤ کے باوجود اجمل خٹک کبھی اپنے نظریات سے پیچھے نہیں ہٹے اور ثابت کیا کہ اصولی سیاست وقتی مفادات کے لیے نہیں بلکہ تاریخ کا رخ موڑنے کے لیے ہوتی ہے۔میاں افتخار حسین کے مطابق اجمل خٹک نے نہ صرف ادب بلکہ عملی سیاست میں بھی مزاحمت کی درخشاں مثال قائم کی۔ نیشنل عوامی پارٹی اور بعد ازاں عوامی نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے انہوں نے وفاقیت، جمہوریت، صوبائی خودمختاری اور مظلوم قومیتوں کے حقوق کے لیے بے مثال کردار ادا کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ اجمل خٹک کی جدوجہد آج بھی سیاسی کارکنوں، خصوصاً نوجوان نسل کے لیے مشعلِ راہ ہے اور عوامی نیشنل پارٹی ان اکابرین کی قربانیوں، نظریات اور سیاسی جدوجہد کی امین ہے۔صوبائی صدر نے کہا کہ اگرچہ اجمل خٹک آج جسمانی طور پر ہم میں موجود نہیں، مگر ان کی فکر اور مزاحمتی روح آج بھی زندہ ہے اور آنے والی نسلوں کو راستہ دکھاتی رہے گی۔