اسلام آباد ( طاہر خلیل )نیب نے کرپشن کی روک تھام اور بد عنوانی کی مشکلات کے ازالے کیلئے ادارہ جاتی میکنزم وضع کرلیا،ادارہ جاتی احتساب مراکز قائم، 1سال میں بد عنوانی کی 2 لاکھ سے زائد شکایات پر کارروائی ، نیب 2025 رپورٹ میں نئے ادارہ جاتی احتساب نظام کے خدو خال واضح کر دیے گئے ،پارلیمنٹرنز فیسی لیٹیشن سینیٹرز کی سربراہی قومی اسمبلی سپیکر ،چیئرمین سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز کو دی گئی ، نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے میکنزم کا بنیاد ی مقصد ہر شعبے میں ادارہ جاتی احتساب کے نظام کو موثر اور فعال بناناہے ، اگر متعلقہ ادارہ بد عنوانی ،کرپشن کی شکایات کے ازالے کیلئے مقررہ مدت میں کاررائی نہ کر سکے تو نیب اپنے اختیار کو برئوئے عمل لائے گا۔ بیورو کریسی کے خلاف شکایات کے ازالے کیلئے کابینہ / اسٹیبلشمنٹ ،سیکریٹریز کی نگرانی میں فیسی لیٹیشن سینیٹر بنا دیئے گئے جبکہ متعلقہ چیمبر ز آف کامرس کے صدور کو بزنس فیس لیٹیشن سینٹر کا سربراہ بنایا گیا ۔ نیب ذرائع نے کہاکہ اداروں کے اندر محکمانہ احتساب نظام وضع ہو ر نے سے ادارے خود محکمانہ طور پر کرپشن کی روک تھام کیلئے فعال ہو رہے ہیں ، جس سے نیب کا بوجھ کم ہو رہا ہے اور نیب 50 کروڑ سے اوپر میگا سکینڈلز کی تحقیقات اور لوٹی گئی رقوم کی واپسی پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے۔