• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وقت کے ساتھ واضح ہوگا، 26 ویں ترمیم کا فیصلہ درست ہے یا نہیں، وفاقی وزیر قانون

لاہور(نمائندہ جنگ) وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے آئینی ترمیم کے معاملے پر مجھ پر بہت تنقید ہوئی ہے، جو مرضی ہوجائے طے ہے کہ 22 کروڑ عوام کی پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ آئینی عدالت نے اپنا کام شروع کر دیا ہے، وقت کے ساتھ ساتھ پتا چلے گا کہ یہ فیصلہ درست تھا یا نہیں۔جنہوں نے آرمی تنصیبات پر حملہ کیا ان کے ٹرائل کا فورم فوجی عدالتیں ہی ہیں۔

عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا ہم نے قانون کے نظام کو پہلے سے بہت بہتر کر دیا ہے، اختلاف کا مطلب لڑائی نہیں بلکہ یہ مہذب معاشرے کا حسن ہے۔ ججز کے ٹرانسفر کا اختیار صدر اور چیف جسٹس کا تھا، ہم نے ججز ٹرانسفر کا طریقہ کار مزید بہتر کیا ہے، جو جوڈیشل کمیشن ججز کو تعینات کرسکتا ہے تو وہ انکی ٹرانسفر کیوں نہیں کرسکتا

انہوں نے کہا کہ پنجاب کے پاس اچھے ججز ہیں تو کیا سندھ،کے پی کے لوگوں کو حق نہیں کہ یہ ججز کو ان کو خدمات دیں، آئین کہتا ہے کہ آئین میں ترمیم کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو ہے، 1973سے لے کر آج تک سپریم کورٹ نے کسی آئینی ترمیم کو چیلنج نہیں کیا۔

وزیر قانون نے کہا کہ ماضی میں ایسے مواقع بھی آئے جب سپریم کورٹ نے کریز سے باہر نکل کر کھیلنا شروع کیا،میں وہ آخر شخص ہوتا جو سویلین کے ملٹری ٹرائل کی حمایت کرتا، جب بات کرتے ہیں کہ نظام قانون اور آئین کے تحت چلنا ہے تو پھر دل کو سخت کرنا پڑتا ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ قانون کے تحت سویلین کا ملٹری ٹرائل ہوسکتا ہے، جب آپ ریڈ لائن کراس کرتے ہیں تو پھر قوانین موجود ہیں، جنہوں نے آرمی تنصیبات پر حملہ کیا ان کے ٹرائل کا فورم فوجی عدالتیں ہی ہیں۔

اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ملکی قوانین کے تحت سویلین کا ملٹری ٹرائل ہوسکتاہے،جب آپ ریڈ لائن عبور کریں گے تو سویلین کا ٹرائل ہوگا،آرمی تنصیبات پربھی ملٹری ٹرائل ہوسکتاہے، یہ ملٹری ٹرائل شفاف اور قانونی طریقہ کار کےمطابق ہی ہوسکتا ہے۔

انہوں نے  کہا کہ نذیر تارڑ نے ملٹری عدالتوں نے عام ملکی عدالتوں کی نسبت نرم سزائیں سنائیں،لاپتہ افراد کی بازیابی کےلئے اقدامات کئے گئے،متاثرہ خاندانوں کےلئے پالیسی پیکج بنادیاہے۔

اہم خبریں سے مزید