• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چین میں جدید انسان نما اے آئی روبوٹ مویا متعارف

تصاویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
تصاویر بشکریہ بین الاقوامی میڈیا

 چین کے علاقے شنگھائی میں قائم روبوٹکس اسٹارٹ اپ DroidUp نے دنیا کا پہلا بایومیمیٹک اے آئی روبوٹ مویا متعارف کرا دیا، جسے انسانی خدوخال اور جذباتی تاثر کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق مویا کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ انسانوں سے مشابہت رکھتی ہو، اس میں حقیقت سے قریب جلد کی بناوٹ، انسانی انداز میں چلنے کی صلاحیت، چہرے کی شناخت اور جدید مصنوعی ذہانت شامل ہے۔

مویا کو ابتدائی طور پر صحت، تعلیم اور کسٹمر سروس جیسے شعبوں میں عوامی روابط کے لیے استعمال کیا جائے گا۔

مویا کی سب سے منفرد خصوصیت اس کی گرم جلد ہے، جو روایتی ٹھنڈے اور دھاتی روبوٹس سے مختلف ہے، روبوٹ کا جسمانی درجہ حرارت 32 سے 36 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رکھا جاتا ہے تاکہ لمس کے وقت انسانی احساس پیدا ہو۔

کمپنی کے بانی لی چنگدو کا کہنا ہے کہ جو روبوٹ انسانوں کی مدد کے لیے بنائے جاتے ہیں، انہیں بے جان محسوس نہیں ہونا چاہیے۔ 

مویا کی آنکھوں کی جگہ کیمرے نصب ہیں، جو چہروں اور حرکات کو ٹریک کر سکتے ہیں، یہ روبوٹ معمولی چہرے کے تاثرات (مائیکرو ایکسپریشنز) بھی ظاہر کر سکتی ہے اور اندرونی اے آئی سسٹم کے ذریعے قدرتی انداز میں ردِعمل دیتی ہے، کمپنی اسے مکمل بایومیمیٹک ایمبوڈیڈ انٹیلیجنٹ روبوٹ قرار دیتی ہے۔

یہ روبوٹ اندرونی اسکلٹن سسٹم واکر 3 پر مبنی ہے، جو پہلے کے ماڈلز کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے اور روبوٹکس مقابلوں میں کارکردگی دکھا چکا ہے۔ 

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ مویا کی چلنے کی درستگی 92 فیصد ہے، جبکہ دیگر تکنیکی تفصیلات واضح نہیں کی گئیں۔

مویا کی متوقع قیمت تقریباً 12 لاکھ چینی یوآن (تقریباً 1 لاکھ 27 ہزار پاؤنڈ) رکھی گئی ہے۔ 

سوشل میڈیا پر اس روبوٹ کی خصوصیات پر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے، کچھ افراد اسے حیران کن ایجاد قرار دے رہے ہیں جبکہ بعض اسے غیر معمولی اور قدرے خوفناک بھی کہہ رہے ہیں۔

سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید