• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اے آئی و روبوٹکس میں پیشرفت نہ ہوئی تو امریکا کا دیوالیہ ہونے کا خطرہ ہے: ایلون مسک کا انتباہ

---فائل فوٹو
---فائل فوٹو

ٹیکنالوجی سے منسلک معروف امریکی ارب پتی ایلون مسک نے خبردار کیا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس میں بڑی پیش رفت نہ ہوئی تو امریکا کو 1000 فیصد دیوالیہ ہونے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

انہوں نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کا قومی قرضہ تیزی سے بڑھ رہا ہے جو تقریباً 39 کھرب ڈالرز تک پہنچ چکا ہے اور یہ صورتِحال ناقابلِ برداشت بنتی جا رہی ہے۔ 

ایلون مسک نے کہا کہ صرف سود کی ادائیگیاں ہی اب 1 کھرب ڈالرز سالانہ سے تجاوز کر چکی ہیں جو ملک کے دفاعی بجٹ سے بھی زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر جاری کشیدگی، خصوصاً ایران سے متعلق تنازعات نے معیشت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

 رپورٹس کے مطابق امریکا نے جنگ کے ابتدائی ہفتے میں تقریباً 11.3 ارب ڈالرز خرچ کیے جبکہ مجموعی اخراجات 1 کھرب ڈالرز سے تجاوز کر سکتے ہیں۔

ایلون مسک نے ایک یونیورسل ہائی انکم نظام کی تجویز بھی پیش کی، جس کے تحت حکومت شہریوں کو باقاعدہ مالی معاونت فراہم کرے تاکہ اے آئی کے باعث ہونے والی بے روزگاری کا ازالہ کیا جا سکے۔

ان کا کہنا ہے کہ خودکار نظام کے ذریعے پیداوار میں اضافہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

 ایلون مسک کا یہ بھی کہنا ہے کہ اے آئی پر مبنی معیشت مستقبل میں فراوانی پیدا کر سکتی ہے اور دولت و مالیاتی نظام کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید
سائنس و ٹیکنالوجی سے مزید