مصنوعی ذہانت کے سبب نوکریوں کے خاتمے کا خدشہ ایک بار پھر موضوعِ بحث بن گیا ہے تاہم ماہرین اب ایک نئے خطرے کی نشاندہی بھی کر رہے ہیں۔
اے آئی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں ملازمین کو ایسے خودکار نظاموں کا سامنا ہو سکتا ہے جو مسلسل نگرانی، یاددہانی اور کارکردگی کی جانچ کے ذریعے کام کے دباؤ میں اضافہ کریں گے۔
مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیوں کے سربراہان حالیہ دنوں میں یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ نئی ٹیکنالوجی نوکریاں ختم کرنے کے بجائے نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرے گی۔
دوسری جانب چِپ ساز کمپنی Nvidia کے سی ای او جینسن ہوانگ نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون نظام ملازمین کی مسلسل نگرانی اور رہنمائی کرتے ہوئے انہیں پہلے سے زیادہ مصروف اور ذہنی دباؤ کا شکار بنا سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر مصنوعی ذہانت کی جانب سے بار بار ہدایات، تنبیہات اور یاددہانیاں دی جاتی رہیں تو ملازمین میں تھکن، بے دلی اور کام سے اکتاہٹ پیدا ہو سکتی ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت ایک معاون کے طور پر مفید ہے لیکن اگر یہ حد سے زیادہ مداخلت کرنے لگے تو یہ ’ڈیجیٹل مائیکرو مینیجر‘ کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
ادھر مختلف عالمی کمپنیوں میں مصنوعی ذہانت سے متعلق تنظیمِ نو کے دوران ملازمین کی برطرفیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
بین الاقوامی ماہرین کا خیال ہے کہ مختصر مدت میں بعض شعبوں میں نوکریاں متاثر ہوں گی تاہم طویل مدت میں نئی مہارتیں سیکھنے والے افراد کے لیے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کے ماہرین نے زور دیا ہے کہ مستقبل میں ملازمین کے تحفظ کے لیے ’کام سے رابطہ منقطع کرنے کے حق‘ (right to disconnect) جیسے قوانین کی ضرورت پیش آ سکتی ہے تاکہ مسلسل ڈیجیٹل نگرانی کے منفی اثرات سے بچا جا سکے۔