• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چھوٹی ٹیمیں بڑے حریفوں کے لیے چیلنج، ٹی 20 ورلڈ کپ کا جوشیلا آغاز

ممبئی (جنگ نیوز) ٹی 20 ورلڈکپ چھوٹی ٹیموں کیلئے اپنی موجودگی ثابت کرنے کا بہترین پلیٹ فارم بن رہا ہے۔ اب تک کے میچز میں کوئی اپ سیٹ تو نہیں ہو الیکن نیپال، امریکا، نیدرلینڈز جیسی ٹیموں نے بڑے ٹیموں ناکوں چنے ضرور چبوادیے ہیں۔ ابتدائی میچز میگا ایونٹ کا جوشیلا آغاز بن گئے۔ انگلینڈ، بھارت اور پاکستان کیلئے اپنے پہلے میچز خطرے کی گھنٹی ثابت ہوئے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح ہوگیا کہ ٹی 20 فارمیٹ میں کوئی ٹیم چھوٹی نہیں ہوتی۔ میچ والے دن قسمت،تجربہ اور اعصاب پر کنٹرول ہی نتیجے پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اتوار کو ممبئی میں ایک اور اپ سیٹ ہونے سے رہ گیا، اور آخری گیند پر انگلینڈ نے نیپال کو مات دی۔ اس میچ میں نیپال کرکٹ ٹیم کے فینز نے ممبئی کے وانکھیڈے اسٹیڈیم میں فیسٹول کا منظر پیش کیا، پورا اسٹیڈیم نیپال کے سرخی اور نیلے رنگوں میں نہایا ہوا تھا۔ ہر طرف نیپالی پرچموں کی بہار تھی۔ میچ کے اختتام پر، نیپال کے کھلاڑیوں نے اپنے بہترین مظاہرے کے باوجود ہار کا سامنا کیا، مگر شائقین نے کھڑے ہو کر انہیں داد دی اور لانگ آف آنر کے ذریعے عزت بخشی، جس سے ٹیم کے حوصلے نمایاں ہوئے۔ نیپال گروپ میچ میں انگلینڈ سے ہار گیا، لیکن ان کے کھلاڑیوں نے پوری لگن کے ساتھ کھیل پیش کیا، جسے شائقین نے بھرپور سراہا۔ اسٹیڈیم میں سرخ و نیلے رنگوں کی بھرمار، نعروں اور تالیاں، ٹیم کے جذبے کی عکاسی کر رہی تھیں۔ ہار کے باوجود یہ لمحہ نیپالی کرکٹ کی تاریخ کا یادگار حصہ بن گیا، جہاں ایک کمزور ٹیم بھی عالمی اسٹیج پر اپنے جوش و خروش سے جیتی محسوس ہوئی۔نیپالی کھلاڑیوں کی یہ پرفارمنس یہ واضح کرتی ہے کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں نتائج کے علاوہ کھیل کے جذبے اور شائقین کی حمایت بھی اتنی ہی اہم ہے، اور کھیل کے جذبات نے ہار کے دکھ کو جزوی طور پر کم کر دیا۔