• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پہیہ جام خود ہی جام ہوگیا، حکومت۔ آج کی ہڑتال قانون کی فتح، PTI

کراچی ، لاہور، پشاور ، کوئٹہ ، مظفرآباد (نیوز ایجنسیاں، نمائندگان جنگ ) ملک بھر میں پاکستان تحریک انصاف اور تحریک تحفظ آئین کی جانب سے شٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال کی کال پرچند شہروں میں جزوی ہڑتال رہی تاہم کراچی، اسلام آباد اور پنجاب کے بڑے شہروں میں کاوربار زندگی اور ٹرانسپورٹ معمول کے مطابق رہی ، لاہور ہڑتال سے لا تعلق رہا ،نوجوانوں سمیت شہری بسنت مناتے رہے، آزاد کشمیر، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ کے کئی شہروں میں جزوی ہڑتال رہی،کوئٹہ میںپولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں ،مظاہرین نے ٹائرز جلا کر اہم شاہراہیں بند کردیں، مختلف شہروں میں شٹر ڈائون اور پہیہ جام ہڑتال رہی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ پہلی دفعہ دیکھا ہے کہ پہیہ جام ہی جام ہوگیا ، لوگوں نے نفرت، انتشار اور تقسیم کی سیاست کو رد کر دیا۔عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ عوام احتجاجی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں اور تحریک انصاف کی کال کو بری طرح مسترد کر دیا ہے ، اتوار کے روز بھی گہما گہمی رہی،خیبرپختونخوا کے وزیر بلدیات مینا خان نے کہا کہ اتوار کے روز کی ہڑتال آئین اور قانون کی فتح ہے،وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر، گلگت بلتستان و سیفران اور صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) خیبر پختونخوا انجینئر امیر مقام نے کہا ہے کہ عوام نے پی ٹی آئی کی شٹر ڈاؤن کال کا شٹر بند اور پہیہ چلا کر بانی پی ٹی آئی کے فسادی بیانیے کو جام کر دیا ہے، خیبر پختونخوا کے عوام کا شکریہ اور مبارک کہ انہوں نے ریاست مخالف بیانیہ مسترد کر دیا ، ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں خیبر پختونخوا بچاؤ تحریک کے تحت عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے ہڑتال کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ کے عوام نے رضاکارانہ طور پر گھروں میں رہ کر اور کاروبار بند کر کے چوری شدہ مینڈیٹ کے خلاف اپنا واضح فیصلہ سنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی سے کشمور اور کیٹی بندر سے تھر نگر تک سندھ کے چھوٹے بڑے تمام شہر بند رہے، جب کہ کراچی، حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، میرپورخاص اور شہید بینظیر آباد ڈویژن کے تمام اہم تجارتی مراکز مکمل طور پر بند رہے جبکہ کراچی سے مختلف شہروں میں جانے والی ٹرانسپورٹ بھی بند رہی۔ دریں اثناءپشاورمیں یکہ توت ، صدر سمیت مختلف علاقوں میں کئی بازار اوردکانیں کھلے رہے، جڑواں شہروں میں چلنے والی سرکاری ٹرانسپورٹ میٹرو اور گرین الیکٹرک گاڑیوں کو انتظامیہ نے خود ہی بند کر دیا تھا پبلک ٹرانسپورٹ ویگنیں اور بسیں پولیس نے ہفتہ کی شام قبضہ میں لے لی تھیں جو اتوار کو دن گیارہ بجے چھوڑ دی گئی تاہم ایک درجن سے زائد ویگنیں شام 5 بجے کے بعد بھی کلثوم پلازہ چوک کے قریب ڈبل روڈ پر موجود تھیں۔

اہم خبریں سے مزید