کراچی لاہور (اسد ابن حسن/آصف محمود بٹ ) ایف آئی اے کے ڈپارٹمینٹل پروموشن بورڈ نے ہیڈ کوارٹر اور پورے ملک میں تعینات 92 اہلکاروں کو اگلے گریڈ میں ترقی دینے کے نوٹیفکیشنز جاری کر دیئے ہیں۔فوری اطلاق، ایک سالہ پروبیشن لازمی، افسران بدستور موجودہ تعیناتیوں پر فرائض انجام دیں گے، نوٹیفکیشنز کے مطابق 27 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کو اگلے گریڈ میں ترقی دے کر سب انسپکٹر بنا دیا گیا ہے۔ ایک دوسرے نوٹیفکیشن کے مطابق 55 ہیڈ کانسٹیبلز کو اگلے گریڈ میں ترقی دے کر اسسٹنٹ سب انسپکٹر بنا دیا گیا ہے۔ اسی طرح ایک اور نوٹیفکیشن کے مطابق 20 اپر ڈویژن کلرکس کو اگلے گریڈ یعنی اسسٹنٹ کی پوسٹ پر ترقی دے دی گئی ہے۔ 27 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز ترقیاں ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی (ڈی پی سی) کے 12 مارچ 2026 کو منعقدہ اجلاس میں کی گئی سفارشات کی روشنی میں ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی منظوری سے عمل میں لائی گئی ہیں اور ان کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔ جاری کردہ آفس آرڈر نمبر 25/2026 کے مطابق ترقی پانے والے افسران کا تعلق ایف آئی اے کے مختلف زونز اور یونٹس سے ہے، جن میں لاہور، اسلام آباد، کراچی، پشاور، ملتان اور گوجرانوالہ زونز کے علاوہ ایف آئی اے اکیڈمی اسلام آباد اور کاؤنٹر ٹیررازم ونگ (سی ٹی ڈبلیو) اسلام آباد شامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق ان ترقیوں کا مقصد ادارے کی پیشہ ورانہ استعداد میں اضافہ اور مختلف شعبہ جات میں تفتیشی امور کو مزید مؤثر بنانا ہے۔ترقی پانے والوں میں ماریا جان (لاہور زون)، طاہر اوصاف (ملتان زون)، صہیب اقبال راجہ (ایف آئی اے اکیڈمی اسلام آباد)، ساجد محمود (اسلام آباد زون)، رانا وقاص اللہ (سی ٹی ڈبلیو اسلام آباد)، اطہر علی (پشاور زون)، اکرام اللہ (کراچی زون)، شاہد احمد (اسلام آباد زون)، خالد مجید گل (لاہور زون) اور ریاض احمد بھٹی (اسلام آباد زون) شامل ہیں۔اسی طرح دیگر ترقی پانے والے افسران میں طاہر اقبال، حسین احمد خان (پشاور زون)، حافظ محمد عمران، حافظ طارق محمود، غلام قادر پاور، محمد اظہر زمان، محمد رمضان، عمر فاروق، عمران انور (گوجرانوالہ زون)، کاظم عباس، فرحان علی، محمود ریاض (اسلام آباد زون)، فریاد احمد، سید ثبت حسین شاہ (اسلام آباد زون)، ممتاز اکبر (ایف آئی اے ہیڈکوارٹرز اسلام آباد)، اقبال حسین (پشاور زون) اور ارشد احمد (اسلام آباد زون) شامل ہیں۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ تمام ترقی پانے والے افسران ایک سالہ پروبیشن مدت کے تحت کام کریں گے جو کہ سول سرونٹس ایکٹ 1973 کی دفعہ 6(2) کے مطابق ہوگی۔ اس دوران ان کی کارکردگی، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ اہلیت کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ انہیں مستقل بنیادوں پر عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا جا سکے۔مزید برآں حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ ترقی کے بعد مذکورہ افسران اپنی موجودہ تعیناتیوں پر ہی خدمات انجام دیتے رہیں گے تاکہ انتظامی تسلسل برقرار رہے، تاہم متعلقہ ڈائریکٹر ایف آئی اے کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ضرورت کے مطابق اپنے دائرہ اختیار میں ان افسران کے تبادلے کر سکیں۔