اسلام آباد(ایجنسیاں)بانی پی ٹی آئی عمران خان کو جیل میں دستیاب سہولتوں سے متعلق سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی فرینڈ آف کورٹ سلمان صفدر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے مطابق ان کی دائیں آنکھ کی بینائی صرف 15 فیصدرہ گئی ہے ‘رپورٹ کے مطابق بانی کو تین چار ماہ قبل نظرمیں کمی کی شکایت ہوئی ‘آگاہ کرنے کے باوجودجیل سپرنٹنڈنٹ نے کوئی اقدام نہیں کیا ‘ دوسال سےدانتوں کا معائنہ بھی نہیں کرایا گیا‘بانی کو دھوپ، تازہ ہوا، ورزش اور چہل قدمی کیلئے وسیع لان دستیاب ہے‘کھانے میں ‘مرغی‘گوشت‘ دال ‘ ناشتے میں کافی‘ دلیہ اور کھجوریں‘بوتل بند پانی فراہم کیا جاتاہے جبکہ انہیں 100 کتابیں ‘ٹشو پیپر‘ ماؤتھ واش‘ورزش مشین ‘ٹی وی ‘ٹھنڈے گرم پانی کی سہولت بھی دستیاب ہے ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کا طبی معائنہ ذاتی ڈاکٹر فیصل سلطان، ڈاکٹر عاصم یوسف یا کسی ماہر ڈاکٹر سے بھی کرایا جا سکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ تقریباً 3 سے 4 ماہ قبل یعنی اکتوبر 2025ء تک ان کی دونوں آنکھوں کی بینائی بالکل نارمل تھی، اس کے بعد بانی پی ٹی آئی کو مسلسل دھندلاہٹ اور نظر کے مدھم ہونے کی شکایت شروع ہوئی، متعدد بار اْس وقت کے سپرنٹنڈنٹ جیل کو مسلسل دھندلاہٹ اور نظر کے مدھم ہونے کی شکایت سے آگاہ کیا، جیل حکام کی جانب سے ان شکایات کے ازالے کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔بعد ازاں اچانک بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ کی بینائی مکمل ختم ہوگئی، جس کے بعد پمز ہسپتال کے ماہر امراضِ چشم ڈاکٹر محمد عارف کو معائنہ کے لیے بلایا گیا، ان کی آنکھ میں خون کا لوتھڑا (کلاٹ) بن گیا تھا جس نے شدید نقصان پہنچایا، علاج کے باوجود ان کی دائیں آنکھ کی بینائی محض 15فیصد تک محدود رہ گئی۔