اسلام آباد(ایجنسیاں)تحریک انصاف کی مرکزی قیادت نے عمران خان کی صحت سے متعلق گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ بانی کو فی الفور جیل سے رہا کیا جائے ‘ اگر کارکن نکل آئے تو آپ کو بھاگنے نہیں دیں گےلہذاسب کچھ بھلا کر آگے بڑھیں ‘اگرعمران خان نابینا ہوا تو بہت سے لوگ نابینا ہوجائیں گے‘سابق سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل کیخلاف مقدمہ دائر کیا جائیگا جبکہ بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ متعلقہ حکام کے پاس دو دن ہیں، بہتر ہے کہ وہ بانی کا علاج کرالیں‘ وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہاہے کہ بانی پی ٹی آئی کی بینائی کی کیا پوزیشن ہے یہ فیصلہ وکیل نہیں ڈاکٹرز کریں گے‘پی ٹی آئی اب ہمدردی کارڑ کھیل رہی ہےجبکہ وفاقی وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑکا کہنا ہے کہ بانی کے ساتھ جیل میں سختی اور نامناسب حالات سے متعلق پھیلایا جانے والا جعلی بیانیہ آج ختم ہو گیا ہے۔ایک انٹرویو میں طلال چوہدری کا کہناتھاکہ کوئی ماہر ڈاکٹر اس کا فیصلہ کرے گا اور ماہر ڈاکٹر کو بھیج دیا گیا ہے‘پی ٹی آئی اب ہمدردی کارڑ کھیل رہی ہے، 8فروری کے احتجاج میں ناکامی کے بعد یہ بانی پی ٹی آئی کی صحت کے پیچھے چھپنا چاہتے ہیں ۔ بانی پی ٹی آئی کا جیل میں وہ مینو ہے جو کسی عام آدمی کے گھر میں نہیں ہوتا، بانی پی ٹی آئی کو بروقت ہر چیز مہیا کی جاتی ہے، پی ٹی آئی ایشو اس لیے بنا رہی ہے ان کے پاس اب اور کوئی کارڈ نہیں رہا۔ یہ ہمارے سیاسی مخالف ہیں، ذاتی نہیں، ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ اے سی نکالیں گے، کھانا نہیں لانے دیں گے‘رپورٹ نے یہ ثابت کیا ہے کہ قانون کی حکمرانی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ علیمہ خان اور بانی پی ٹی آئی کے دیگر فیملی ممبران کی طرف سے بانی پی ٹی آئی کے ساتھ جیل میں مبینہ سختی اور نامناسب حالات سے متعلق پھیلایا جانے والا جعلی بیانیہ آج ختم ہو گیا ہے۔