کراچی( جنگ نیوز)کراچی کے مختلف علاقوں میں پانی کا بدترین بحران پیدا ہوگیا،شہری بوند بوند کو ترس گئے، مرمتی کام کے نام پر شہر کا بڑا حصہ 4روز سے پانی سے محروم ہے اور شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق گلشن اقبال بلاک 19میں84انچ قطر آب کی لائن میں رسائو آگیا تھاجس کامرمتی کام پیر سے شروع کیا گیا جس کے باعث دھابیجی پمپنگ اسٹیشن سے 200 ملین گیلن یومیہ پانی کم فراہم کیاجارہا تھا۔اطلاعات کے مطابق 84انچ کی لائن کے مرمتی کام کی وجہ سے شہر میں پانی کانظام درہم برہم ہوکر رہ گیا اور شہری پانی کی بوند بوندکو ترس گئے۔ ایک لائن کے مرمتی کام کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں کورنگی، لانڈھی، شاہ فیصل کالونی ،گلشن اقبال ،گلستان جوہر، لیاقت آباد، ناظم آباد، پی آئی بی کالونی، صدر، اولڈسٹی ایریا،محمودآباد،ڈیفنس ،گلہبار سمیت دیگر میں چاردن سے پانی کی فراہمی بند ہے۔ترجمان کاکہنا تھا کہ آج جمعہ کو مرمتی کام مکمل کیاجائے گا لیکن حیران کن طور پر بدھ کی شام ہی مرمتی کام مکمل کر لیا گیا اور لائنوں کی چارجنگ شروع کرکے پانی کی فراہمی بدھ اور جمعرات تک شروع ہوجانے کا دعویٰ کراچی واٹر کارپوریشن کی جانب سے کیا گیا تھا،لیکن پانی کی فراہمی معمول پر نہ آسکی،شہر میں پانی کاحصول شہریوں کیلئے مشکل ترین ہوگیا ہے، شہری مہنگے داموں ٹینکرز خریدنے پر مجبور ہیں،شہرکا اہم مرکزسوک سینٹر پر بھی پانی کی فراہمی بند ہے جس کی وجہ سے ملازمین اورسائلوں کو شدید مشکلات کاسامناہے،مساجد میں وضو کیلئے بھی پانی دستیاب نہیں ہے، شہر میں آئے دن پانی کی لائنیں پھٹنا،رسائو، بجلی کےبریک ڈائون کی وجہ سے پانی کی عدم فراہمی معمول بن چکی ہے، 84 انچ قطر کی لائن کے مرمتی کام کی وجہ سے لانڈھی اور شیرپائوہائیڈرنٹس سے بھی پانی کی فراہمی بند ہے، صفورہ اور نیپاہائیڈرنٹس سے بھی شہریوں کو پانی کی فراہمی شدیدمتاثرہے۔