کراچی(مطلوب حسین )ٹریفک پولیس کی مبینہ نااہلی اورعدم توجہی کے باعث شہر میں ٹریفک جام ایک سنگین بحران کی شکل اختیار کر گیا ہے جس سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہو گئی ہے۔ شہر کی بیشتر شاہراہوں پر مسلسل چوتھےروز جمعرات کو بھی بدترین ٹریفک جام نظر آیا جس سے شہری سڑکوں پر رل گئے ،ٹریفک جام کی وجہ سے شہریوں کی گاڑیاں رینگتی رہی ،لاکھوں روپے مالیت کا ایندھن ضائع ہوتا رہااورشہری شدید اذیت میں مبتلا رہے۔ ٹریفک جام میں اسکولوں کی وین اور مریضوں کو اسپتال منتقل کرنے والی ایمبولنس بھی سڑکوں پر پھنسی رہیںشہریوں کا کہنا ہےکہ ٹریفک جام کی وجہ سے انہیں اپنی ملازمت اور کاروبار میں پہنچنے کے لئے گھنٹوں گھنٹوں سڑکوں پر پھنسے رہنا پڑتا ہے،صورتحال کی سنگینی کے باوجود سڑکوں پر ٹریفک پولیس کی غیر موجودگی نے عوامی مشکلات میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے،افسوس ناک طور پر سول اسپتال ،عباسی اسپتال ،جناح اسپتال،ڈاکٹر ضیا الدین اسپتال ،دارالصحت اسپتال کے اطراف کی سڑکوں پر ٹریفک نظام کو بحال رکھنے کے لئے کوئی مربوط انتظامات دیکھائی نہیں دیتے ۔دوسری جانب شہر کی سڑکوں کی خستہ حالی بھی ٹریفک جام کی بڑی وجہ ہے، جگہ جگہ ٹوٹی ہوئی سڑکیں، گہرے گڑھے، جاری ترقیاتی کام اور ناقص مرمت نے ٹریفک کی روانی کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے جس سے حادثات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے،یونیورسٹی روڈ ,گلستان جوہر ،جہانگیر روڈ ،ایم اے جناح روڈ ،سولجر بازار ،گارڈن روڈاور دیگر سڑکوں پر جاری ترقیاتی کاموں کے باجود ٹریفک پولیس کی جانب سے ٹریفک منیجمنٹ کا موثر نظام دیکھائی نہیں دیتا،ٹریفک کنٹرول نہ ہونے کے باعث ہر ڈرائیور اپنی مرضی سے گاڑی چلاتا نظر آتا ہے، غلط پارکنگ، ون وے کی خلاف ورزیاں اور اوور ٹیکنگ معمول بن چکی ہیں۔شہریوں کا کہنا ہےکہ ای چالان کے نام شہریوں کو بھاری جرمانہ عائد کردئے گئے ہیں تاہم ٹریفک پولیس سڑکوں سے غائب ہے،محض کسی وی آئی پی مومنٹ کے موقع پر ٹریفک پولیس سڑکوں کو کلیئر کرانے کے لئے دیکھائی دیتی ہے اور وی آئی پی مومنٹ کے بعد ٹریفک پولیس بھی سڑک سے غائب ہوجاتی ہے۔