کراچی( رپورٹ/ اخترعلی اختر ) ماضی کے مقبول فلمی ہیرو اداکار شاہد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کا بہت بڑا عاشق رہا ہوں، ماضی میں سینما سستی ترین عوامی تفریح تھی،ہر ہفتے درجنوں فلمیں ریلیز ہوتی تھیں،پاکستان میں اچھی فلمیں تب بنیں گی، جب ڈائریکٹر پروڈیوسراور رائٹراچھے ہوں گے، جب کراچی آتا ہوں، ایسا لگتا ہے یہ میرا گھر ہے۔ تفصیلات کے مطابقپاکستان فلم انڈسٹری کے سنہرے دور کے مقبول ہیرو شاہد کی کراچی میں شاندار پذیرائی، پاکستان امریکن کلچرل سینٹر اور کراچی پریس کلب میں پر وقارتقریبات کا انعقاد کیاگیا۔اس موقع پرگفتگو کرتے ہوئے لیجنڈری اداکار شاہد حمید نے بتایا کہ جب بھی کراچی آتا ہُوں، ایسا لگتا ہے یہ میرا اپنا گھر ہے.کھیل میں سیاست کوشامل نہیں کرنا چاہیے. پاکستان بھارت کے میچ کا منتظر ہُوں.دُعا کرتاہوں کہ پاکستان میچ جیتے.آج کی صورتحال میں فلم انڈسٹری کو حکومت کی سپورٹ کی ضرورت ہے۔ حکومت، فلم انڈسٹری کو سپورٹ کرے، اگر حکومت کی معاونت نہیں ہوگی تو انڈسٹری آگے نہیں بڑھ سکتی، اچھی فلمیں اس وقت بنیں گی، جب ڈائریکٹر پروڈیوسراور رائٹراچھے ہوںگے.فلم انڈسٹری کا مستقبل روشن ہے،میں ذوالفقارعلی بھٹو کا بہت بڑاعاشق رہا ہُوں۔ ذوالفقارعلی بھٹو کے دور میں پاکستان فلم انڈسٹری عُروج پر تھی.ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جتنی پذیرائی ملی، اتنی عزت کبھی نہیں ملی،مجھے پتاچل چکا تھا کہ بھٹو صاحب کا فیصلہ ہوچکا ہے.مولوی مشتاق سے گزارش کی کہ ذوالفقار بھٹو کو پھانسی نہ دیں.مولوی مشتاق نے مجھے کہاکہ کیا تم کوئی اداکار ہو۔ ایک سوال کے جواب میں اداکار شاہد حمید نے بتایا کہ میری فلم ’’انمول‘‘ باکس آفس پر ڈائمنڈ جوبلی ثابت ہوئی۔اداکارہ شبنم، رانی، نِشو، سنگیتا، بابرہ شریف، دیبا سمیت اپنے دور کی تقریباً ہر ہیروئن کے ساتھ کام کیا۔ مشہور فلموں میں شمعِ محبت، اف یہ بیویاں، شِکار، شبانہ، آبشار، دل نے پھر یاد کیا، ٹھاہ،جادو، مرزا جٹ،انمول،تہذیب،امراؤ جان ادا اور دیگر شامل ہیں۔اب دیکھتا ہوں کہ ملک بھر میں سینما گھر ختم ہوچکے ہیں، تو بہت دکھ ہوتا ہے۔ ماضی میں سینما سستی ترین عوامی تفریح تھی. .ماضی میں ادارے فلم انڈسٹری کو بھرپور سپورٹ کرتے تھے.ایک سوال کے جواب میں ماضی کی فلموں کے ہیرو شاہد نے کہا ہے کہ فلم انڈسٹری کی ترقی کے لیے حکومتی معاونت ناگزیر ہے۔ماضی میں سینما گھروں میں رونق ہوتی تھی، مگر اب سینما کلچر تقریباً ختم ہوچکا ہے۔ ہمارے پاس بہت ٹیلنٹ ہے،پاکستان فلم انڈسٹری کا مستقبل روشن ہے۔ ایک مرتبہ پھر فلم انڈسٹری کا سنہری دور واپس آئے گا۔میرے بیٹے کامران شاہد نے ایک فلم ’’ہوئے تم اجنبی ‘‘ بنائی تھی، اب وہ دوسری فلم کی تیاریوں میں مصروف ہے۔