اسلام آباد (اسرارخان/ناصرچشتی )حکومت کا چھوٹے گھریلوبجلی صارفین پر 132ارب روپے کے فکسڈچارجز عائد کرنے اور سبسڈیز صنعتوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ‘پہلی بار پروٹیکٹڈ صارفین پر بھی فکسڈ چارجز لاگو ہوں گےجبکہ صنعتی ٹیرف میں چار روپے 58پیسے فی یونٹ تک کمی کی گئی ہے ‘ادھر نیپرا نے وزارت توانائی کی درخواست منظور کرتے ہوئے بجلی صارفین پر فکسڈ چارجز عائد کرنے کی منظوری دے دی ہے۔فیصلے کے مطابق پروٹیکٹڈ صارفین پر ماہانہ 100 یونٹ تک استعمال پر 200 روپے فکسڈ چارجز لاگو ہوں گے جبکہ 200 یونٹ ماہانہ استعمال کرنے والوں کو 300 روپے ادا کرنا ہوں گے۔اسی طرح نان پروٹیکٹڈ صارفین کیلئے بھی مختلف کیٹیگریز مقرر کی گئی ہیں، 100 یونٹ تک استعمال کرنے والوں پر 275 روپے، 200 یونٹ تک 300 روپے اور 300 یونٹ تک کے صارفین پر 350 روپے فکسڈ چارجز عائد کیے جائیں گے۔301 سے 400 یونٹ تک استعمال کرنے والوں کو 400 روپے جبکہ 401 سے 500 یونٹ تک کے صارفین کو 500 روپے فکسڈ چارجز ادا کرنا ہوں گے۔ماہانہ 500 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر 675 روپے فکسڈ چارجز لاگو ہوں گے۔نیپرا نے بجلی ٹیرف میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت وفاقی حکومت کو گھریلو صارفین (بشمول پروٹیکٹڈ صارفین) پر ماہانہ 350 روپے فی کلو واٹ تک کے فکسڈ چارجز عائد کرنے کی اجازت دی گئی ہے جبکہ صنعتوں اور زیادہ بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے فی یونٹ نرخوں میں کمی کی گئی ہے۔نیپراکا کہناہے کہ اس نئے ڈھانچے سے فکسڈ چارجز کی مد میں سالانہ 132 ارب روپے اضافی حاصل ہوں گے، جس سے کل وصولی 223 ارب روپے سے بڑھ کر تقریباً 355 ارب روپے تک پہنچ جائے گی‘اس اقدام سے مجموعی طور پر 101 ارب روپے کی رقم کراس سبسڈی (باہمی رعایت) کے لیے حاصل ہوگی جو بنیادی طور پر صنعتی شعبے کی مدد کے لیے استعمال کی جائے گی تاکہ معاشی بحالی کو یقینی بنایا جا سکے۔200یونٹس تک استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین پر فکسڈ چارجزعائد کرنے سے ان سلیبز کو ملنے والی سبسڈی میں 51 ارب روپے کی کمی آئے گی۔