قارئین ! اسلام آباد میں دہشتگردی کی واردات کیلئے بطور خاص امام بارگاہ کو نشانہ بنانا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس واردات کے ذریعے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی بھی سازش کی گئی ۔ اسلام آباد کی امام بارگاہ و مسجد خدیجہ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والا المناک خودکش حملہ اس تلخ حقیقت کو پوری شدت سے آشکار کر گیا ہے کہ پاکستان بھارت اور افغانستان کی ریاستی سرپرستی میں ہونیوالی دہشتگردی کا ہدف ہے۔ 32نمازیوں کی شہادت اور 170 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کا یہ سانحہ محض ایک دہشتگردانہ کارروائی نہیں بلکہ پاکستان کے امن، مذہبی ہم آہنگی اور ریاستی رِٹ پر حملہ ہے۔ یہ واقعہ اس امر کا بھی ثبوت ہے کہ دشمن اپنے مذموم عزائم سے باز نہیں آیا اور اپنی پراکسیز کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔یہ امر قابلِ تحسین ہے کہ سکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو گیٹ پر ہی روک لیا اور فائرنگ کر کے اسے آگے نہ بڑھنے دیا تاہم زخمی حالت میں خودکش بمبار کا خود کو دھماکے سے اڑا لینا اس حقیقت کی نشاندہی ہے کہ دہشتگرد نیٹ ورکس کس قدر سفاک، منظم اور بے رحم ہو چکے ہیں۔ اگر سکیورٹی اہلکار خود کش حملہ آور کو مسجد کے اندر داخل ہونے سے روک نہ پاتے تو بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کتنا بڑا جانی نقصان ہوتا۔ قوم اپنے ان بہادر محافظوں کو سلام پیش کرتی ہے جنہوں نے اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر مزید تباہی کو روکا۔حکومتی ذرائع کے مطابق حملہ آور کا تعلق بھارتی پراکسی تنظیم ”فتنہ الہندوستان“ سے تھا، جس نے دہشتگردی کی تربیت افغانستان میں حاصل کی اور کچھ عرصہ قبل افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوا۔ یہ انکشاف نہایت سنجیدہ سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اول یہ کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے۔ دوم یہ کہ بھارت خطے میں اپنی شکست خوردہ عسکری حکمت عملی کی ناکامی کے بعد اب پراکسی وار کے ذریعے پاکستان سے بدلہ لینے پر اتر آیا ہے۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ گزشتہ سال مئی میں پاکستان کے ساتھ جنگ کے دوران بھارت کو جس عسکری، سفارتی اور اخلاقی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، اس نے بھارتی اسٹیبلشمنٹ کو شدید بوکھلاہٹ میں مبتلا کر دیا ہے۔ روایتی محاذ پر ناکامی کے بعد بھارت نے ایک بار پھر وہی پرانا، آزمودہ اور ناکام ہتھکنڈا اختیار کیا ہے، یعنی پاکستان کے اندر دہشتگردی کو ہوا دینا، فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو سبوتاژ کرنا اور امن و امان کی صورتحال کو خراب کرنا۔یہ بات بھی انتہائی تشویشناک ہے کہ دہشتگردی کا نشانہ ایک عبادت گاہ بنی، جہاں لوگ اپنے رب کے حضور سجدہ ریز تھے۔ عبادت گاہوں پر حملے کسی ایک مسلک، فرقے یا مذہب پر نہیں بلکہ پوری انسانیت پر حملہ ہوتے ہیں۔ہر بار دشمن کا مقصد یہی رہا ہے کہ قوم کو تقسیم کیا جائے اور ریاست کو کمزور دکھایا جائے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی قوم نے ہر آزمائش میں اتحاد، صبر اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا یہ واضح اعلان بہر صورت عملدرآمد کا متقاضی ہے کہ ملک میں شرپسندی اور بدامنی پھیلانے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔اب وقت محض بیانات کا نہیں بلکہ ٹھوس، فیصلہ کن اور ہمہ جہت اقدامات کا ہے۔ دہشتگردی کے اس واقعے کے پس پردہ نیٹ ورک، سہولت کاروں اور مالی معاونت کے ذرائع کو بے نقاب کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔امریکہ، برطانیہ، چین، سعودی عرب اور آسٹریلیا کے سفارت خانوں کی جانب سے اس خودکش حملے کی مذمت عالمی سطح پر اس امر کی تصدیق ہے کہ دہشتگردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اسکے خلاف مشترکہ موقف ناگزیر ہے۔ تاہم محض مذمتی بیانات اب کافی نہیں۔ عالمی قیادتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اگر بھارت کو اس کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی سے نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اور پوری دنیا اس آگ کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔بھارت کا یہ ایجنڈا درحقیقت علاقائی نہیں بلکہ عالمی تباہی کا ایجنڈا ہے۔ جس ریاست کو دہشتگردی کے ثبوتوں کے باوجود عالمی سطح پر جوابدہ نہ بنایا جائے، وہ مزید بے لگام ہو جاتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ عالمی ضمیر کب جاگے گا؟پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ یہ قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔ ریاست اور قوم دونوں اس عزم پر قائم ہیں کہ دہشتگردی کو اس کی ہر شکل میں شکست دی جائے گی۔ اس کیلئے داخلی محاذ پر انٹیلی جنس، سرحدی نگرانی، نیشنل ایکشن پلان پر حقیقی عملدرآمد اور سیاسی ہم آہنگی ازحد ضروری ہے۔ہمیں سفارتی محاذ پر بھی بھرپور اور جارحانہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ اس تناظر میں بھارت کو عالمی فورمز پر بے نقاب کرنا، اسکی پراکسی جنگ کے شواہد پیش کرنا اور افغانستان پر بھی یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اس کی سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ہونا کسی صورت قابل قبول نہیں۔قوم کو چاہیے کہ وہ اس کڑے وقت میں اتحاد، صبر اور استقامت کا مظاہرہ کرے۔دہشتگردی کے خلاف یہ جنگ ہماری بقا، خودمختاری اور آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کی جنگ ہے جس میں کامیابی کیلئے تمام قومی سیاسی، عسکری، دینی قیادتوں کا ایک پیج پر آنا ضروری ہے۔اسلام آباد میں ہونے والے خود کش دھماکے کی تحقیقات کیلئے انٹیلی جینس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پشاور اور نوشہرہ میں چھاپے مار کر خودکش حملہ آور کے 4 سہولت کار گرفتار کرلئے ۔ جن میں خودکش حملے کا داعش افغانی ماسٹر مائنڈ شامل ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی انفرادی نہیں، سہولت کاری کے ڈھانچے کا نتیجہ تھی۔