• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ٹورنامنٹ ختم نہیں ہوا، سپر ایٹ تک پہنچنے کا موقع موجود، سلمان، منصوبہ بندی پر عمل نہ ہوسکا

کراچی (جنگ نیوز) بھارت نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے ایک ہائی وولٹیج مقابلے میں پاکستان کو شکست دے کر سپر ایٹ مرحلے میں جگہ بنالی۔ میچ کے بعد پاکستان کے کپتان سلمان علی آغا نے شکست تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ منصوبہ بندی درست تھی لیکن اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ ابھی ٹورنامنٹ ختم نہیں ہوا، ہمارے پاس کوالیفائی کرنے کا موقع موجود ہے۔ ہم چار اسپنرز کے ساتھ گئے تھے، مگر بدقسمتی سے یہ ان کا آف ڈے ثابت ہوا۔ بیٹنگ میں پاور پلے کے دوران تین چار وکٹیں گنوانا کسی بھی ٹیم کو دباؤ میں لے آتا ہے، ہم صورتحال کے مطابق بولنگ نہ کر سکے اور بیٹنگ میں بھی خود کو اپلائی نہیں کیا۔ پاک بھارت میچز میں جذبات عروج پر ہوتے ہیں، ہمیں انہیں بہتر انداز میں کنٹرول کرنا ہوگا۔ بھارتی کپتان سوریاکمار یادو نے اس کامیابی کو پوری قوم کے نام کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم نے وہی جارحانہ برانڈ آف کرکٹ کھیلی جس کا منصوبہ بنایا تھا ۔پہلے اوور میں ایک وکٹ گرنے کے بعد ذمہ داری لینے کی ضرورت تھی، جسے ایشان کشن نے غیر معمولی انداز میں نبھایا۔ ایشان نے آؤٹ آف دی باکس سوچا۔ تلک ورما، شیوم دوبے اور رِنکو سنگھ نے جس اعتماد سے بیٹنگ کی وہ قابلِ تعریف ہے۔ پہلی اننگز میں ہدف کا اندازہ لگانا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے، تاہم 175 رنز تک پہنچنے کے بعد یقین ہو گیا تھا کہ یہ اس پچ پر توقع سے 15 سے 20 رنز زیادہ ہے۔ ہاردک پانڈیا نے نئی گیند کے ساتھ ذمہ داری لی جبکہ جسپریت بمراہ نے ثابت کیا کہ وہ دنیا کے بہترین بولر کیوں سمجھے جاتے ہیں۔ میچ کے بہترین کھلاڑی ایشان کشن نے کہا کہ وکٹ اتنی آسان نہیں تھی، میں صرف گیند پر نظر رکھے ہوئے تھا، آف سائیڈ پر خاص محنت کی تاکہ بولرز کو وہاں گیند کرانے پر مجبور کر سکوں جہاں میں چاہتا تھا۔ ٹیم کا ہدف 160 سے 170 رنز کے درمیان اسکور کرنا تھا، جو حالات کے مطابق مناسب تھا۔ بھارت پاکستان میچ ہمیشہ خاص ہوتا ہے ۔ پاکستان کے پاس اچھے اسپنرز تھے، بمراہ اور ہاردک پانڈیا نے شاندار بولنگ کی ۔ بمراہ نئی گیند ہو یا ڈیتھ اوورز، ہر مرحلے پر میچ کا رخ بدل سکتے ہیں۔

اسپورٹس سے مزید