• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جماعت اسلامی کا اسمبلی کے باہر احتجاج، سرکار کی مدعیت میں مقدمہ درج

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ پولیس نے سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج دھرنےدینے کی کوشش کے دوران جماعت اسلامی کے خلاف آرام باغ تھانے میں سرکار کی مدعیت میں مبینہ ہنگامہ آرائی کا مقدمہ درج کرلیا ہے،مقدمہ میں34 نامزد سمیت 325 نامعلوم افراد کے خلاف ہنگامہ آرائی ، توڑ پھوڑ،سڑک بند کرنے،کار سرکار میں مداخلت ، دفعہ 144 کی خلاف ورزی اورانسداد دہشت گردی سمیت دیگردفعات شامل کی گئی ہیں،مقدمہ کے متن کے مطابق جماعت اسلامی کی سینئر قیادت صفیان دیلا،عثمان شریف ، فیضان ،جواد شعیب اور دیگر نامعلوم سینئرقیادت دھرنے اوراحتجاج کی سرپرستی کررہے تھےاوراپنی تقریروں کے ذریعے اشتعال پھیلاتے ہوئے نعرے لگا رہے تھے احتجاج میں 300 سے 325افراد شامل تھے، دوران تقریر اور دھرنے میں شامل افراد جو کہ ڈنڈوں ، لاٹھیوں اوراسلحہ سے مسلح ہوکراچانک مشتعل ہوگئے بلوا اورہنگامہ آرائی پراترآئے اورپولیس پرحملہ کر دیا جس کے نتیجے میں انسپکٹر راجہ مسعود،ایس ایچ او پریڈی ایوب میرانی ،ایس ایچ او انسپکٹر شاہ فیصل خان ، پولیس کانسٹیبل زوہیب زخمی ہوئے، مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے اینٹی رائٹ کا استعمال کیا گیا اورمیگا فون کے ذریعے اعلانات کیے گئے کہ ہنگامہ آرائی نہ کریں اور منتشرہوجائیں لیکن ہجوم مشتعل رہا اس کے بعد گیس شیل کے ذریعے ہجوم کومنشر کیا گیا دوران ہنگامہ آرائی 30 افراد کوگرفتار کیا گیا جبکہ دیگر نامعلوم موقع پر سے فرار ہو گئے۔

شہر قائد/ شہر کی آواز سے مزید