• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ

پشاور (خصوصی نامہ نگار) خیبر پختونخوا انفارمیشن کمیشن میں کمشنرز محمد ارشاد اور ارشد احمد نے اداروں کے خلاف شہریوں کی شکایات کی سماعت کی۔ سماعت میں ڈائریکٹوریٹ آف سوشل ویلفئیر، انجنئیرنگ یونیورسٹی پشاور، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفس پشاور سمیت مختلف اداروں کے پبلک انفارمیشن آفیسرز کمیشن میں پیش ہوئے۔ سماعت میں سوشل ویلفیئرڈیپارٹمنٹ نے مطلوبہ معلومات کمیشن کو فراہم کردیں جس میں کوہاٹ کے رہائشی فلک ناز خان نے سپیشل ایجوکیشن کمپلیکس سے اس کے 2022 کے بجٹ، ایک نوٹیفکیشن کی کاپی، پوسٹنگ آرڈر اور دیگر تفصیلات مانگی تھیں۔ اس کے علاوہ پارلیمانی افیئرز اینڈ ہیومن رائٹس ڈیپارٹمنٹ، اور پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ نے مطلوبہ معلومات بالترتیب 10 اور 5 دنوں میں کمیشن کو فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی جس میں مذکورہ اداروں سے بالترتیب ناصر بنگش نے زنانہ سٹاف کی تعداد، ان کی تنخواہوں اور مراعات جبکہ عبدالرب نے پراجکیٹ کے تحت بھرتی شدہ افراد کی تعلیمی اسناد اور میرٹ لسٹ کی تفصیلات مانگی تھیں۔ کمیشن نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کو ایک شکایت سے متعلق تمام تر ریکارڈ کیساتھ اگلی سماعت میں ذاتی طور پر حاضر ہونے کی ہدایات جاری کیں جبکہ سماعت سے غیر حاضری پر کمیشن نے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔
پشاور سے مزید