• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آر ڈی اے، کنٹریکٹ افسر کو بھرتی کے 3 ماہ بعد ہی اعلیٰ عہدے کا چارج تفویض

اسلام آباد (ساجد چوہدری )راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں صرف ساڑھے تین ماہ قبل کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے گریڈ سترہ کے افسر کو گریڈ اٹھارہ کی پوسٹ ڈپٹی ڈائریکٹر اسٹیٹ مینجمنٹ کا مبینہ طور پر اضافی چارج دیئے جانے کا انکشاف ہوا ہے جس کے باعث اکتوبر 2021میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر اسٹیٹ مینجمنٹ -II بھرتی ہونے والے سینئر افسر کو ان کے ماتحت کر دیا گیا ہے ، آر ڈی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر (اسٹیٹ مینجمنٹ -II) / ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس شعیب نے ڈائریکٹر جنرل آر ڈی اے کو کنٹریکٹ پر تعینات جونیئر افسر کو ڈپٹی ڈائریکٹر (اسٹیٹ مینجمنٹ) کا اضافی چارج دیئے جانے کے معاملے کا ازسرنو جائزہ لینے کی درخواست دیدی ہے ، درخواست میں کہا گیا ہے کہ وہ 16اکتوبر 2021کو آر ڈی اے میں بھرتی ہوئے اور اس وقت سے اسٹیٹ مینجمنٹ ڈائریکٹوریٹ میں بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر (اسٹیٹ مینجمنٹ) خدمات سرانجام دے ہیں ، اپنی تفویض کردہ ذمہ داریوں کے علاوہ فنانس ڈائریکٹوریٹ میں ڈپٹی ڈائریکٹر (فنانس) کا اضافی چارج بھی سنبھالے ہوئے ہیں ، 30اکتوبر 2025کو آر ڈی اے میں بھرتی ہو کر آنے والے ایک کنٹریکٹ افسر کو اسٹیٹ مینجمنٹ ڈائریکٹوریٹ میں ڈپٹی ڈائریکٹر (اسٹیٹ مینجمنٹ) کا اضافی چارج سونپا گیا ہے ، یہ انتظامی اقدام بادی النظر میں مروجہ سول سروس رولز اور سینیارٹی سے متعلق سپریم کورٹ کے طے شدہ اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا، مزید برآں یہ اقدام عدالت عظمیٰ پاکستان کے بعض فیصلوں کے بھی منافی معلوم ہوتا ہے، ایک ریگولر اور سینئر افسر کی موجودگی میں اعلیٰ عہدے کا اضافی چارج ایک کنٹریکٹ جونیئر افسر کو دینا میرٹ، سنیارٹی ، شفافیت اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کے اصولوں کو متاثر کر سکتا ہے، سروس قوانین اور طے شدہ عدالتی نظائر سے انحراف انتظامی پیچیدگیوں اور ممکنہ قانونی مضمرات کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
اسلام آباد سے مزید