• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چینی روبوٹ کو اپنا بنا کر پیش کرنے پر بھارتی یونیورسٹی پر شدید تنقید

فوٹو — اے پی
فوٹو — اے پی

بھارتی یونیورسٹی کو اے آئی کے ایک بڑے سمٹ میں چین کے بنائے ہوئے روبوٹک ڈوگ کو اپنا کہہ کر پیش کرنے پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ گیا۔

گیلگوٹیاس یونیورسٹی کی پروفیسر نیہا سنگھ نے اس ہفتے میڈیا کو بتایا کہ روبوٹک ڈوگ ’اورین‘ کو ہماری یونیورسٹی کے سینٹر آف ایکسی لینس نے تیار کیا ہے۔

جب یونیورسٹی کی پروفیسر کے انٹرویو کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صارفین نے جلد ہی پہچان لیا کہ اس روبوٹ کا نام ’اورین‘ نہیں بلکہ یہ روبوٹ ’Unitree Go2‘ ہے جسے چین کی کمپنی یونی ٹری روبوٹکس نے تقریباً 2 ہزار 800 ڈالرز میں فروخت کیا تھا اور اسے عالمی سطح پر تحقیق اور تعلیم میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا گیا۔

زیادہ شرمندگی اس لیے ہوئی کیونکہ بھارت کے آئی ٹی کے وزیر اشونی وشنو نے یونیورسٹی کی پروفیسر کے انٹرویو کے ویڈیو کلپ کو اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کر دیا تھا اور تنقید کا سامنا ہونے کے بعد انہیں یہ کلپ ڈیلیٹ کرنا پڑا۔

اس واقعے پر شدید تنقید کی گئی ہے اور اس نے بھارت کے اے آئی سے متعلق عزائم پر بھی کئی سوال اُٹھا دیے ہیں۔

گیلگوٹیاس یونیورسٹی اور پروفیسر نیہا سنگھ نے تنقید کا سامنا کرنے کے بعد یوٹرن لیتے ہوئے کہا ہے کہ روبوٹ یونیورسٹی کی تخلیق نہیں تھی اور یونیورسٹی نے کبھی یہ دعویٰ بھی نہیں کیا۔

اپوزیشن جماعت کانگریس نے اس واقعے کو وزیرِ اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جو کہ 5 روزہ اے آئی سمٹ میں تقریباً 20 عالمی رہنماؤں اور درجنوں مزید قومی وفود کی میزبانی کر رہے ہیں۔

کانگریس نے سوشل میڈیا ویب سائٹ ایکس پر ایک ویڈیو شئیر کی جس میں تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مودی حکومت نے اے آئی سمٹ میں چینی روبوٹ کو اپنا کہہ کر پیش کیا اور عالمی سطح پر بھارت کا مذاق بنا دیا۔

ویڈیو میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ بھارت کے لیے واقعی ایک انتہائی شرمناک واقعہ ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید