کوئٹہ ( اسٹاف رپورٹر)پولیس ٹریننگ کالج کوئٹہ کے ترجمان نے سوشل میڈیا پر رہائشی بیرک میں کھانے کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیو کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کچھ روز قبل پولیس ٹریننگ کالج، کوئٹہ سے ایک افسر کو غفلت اور لاپرواہی کی بنا پر فارغ کر دیا گیا تھا۔ اسی روز کسی رہائشی بیرک میں کھانے کی مبینہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ حالانکہ میس میں سے کھانا کسی رہائشی بیرک میں لے جانے کی کوئی اجازت نہیں ہے، کیونکہ میں میں ہی تمام ضروری سہولتیں مہیا کی گئی ہیں۔ اس ویڈیو کے بعد میں سے کھانا بیرک لے جانے کے عمل پر مزید سختی کی گئی تاکہ زیر تربیت ملازمان میس میں ہی یکجا ہو کر کھانا تناول کر سکیں۔اسی طرح کچھ خواتین اہلکار کھانا لے کر رہائشی بیرک میں چلی گئیں۔ جن کو میس میں ہی کھانا کھانے کی بابت DSP نے خصوصی ہدایات دیں اور محکمانہ حکم احکام سنائے۔مگر اس رنج اور معمولی معاملے کو غیر ضروری طور پر بڑھا کر لیڈی اہلکار نے درخواست دی گئی۔ بعد ازاں انتظامیہ اور دیگر سینئر افسران نے درخواست دہندہ اور DSP کو دفتر میں طلب کر کے ہدایات دیں کہ برائے آئندہ وہ ادارے کی سینئر افسران کی جانب سے جاری کئے گئے حکم احکام اور SOPS پر سختی سے عملد رآمد کو یقینی بنائیں۔واضح رہے کہ پولیس ٹریننگ کالج، کوئٹہ کے میس کی حال ہی میں مکمل طور پر تزئین و آرائش اور تعمیر ومرمت کی گئی ہے ، جبکہ خواتین اہلکاروں کیلئے علیحدہ میں ہال ہے، جس میں پردے کا خصوصی انتظام کیا گیا ہے۔ میس کا افتتاح بھی حالیہ دنوں میں ہوا ہے۔ اس کالج میں جاری تمام احکامات کا مقصد زیر تربیت اہلکاروں (جوانوں / خواتین) کو نظم و ضبط اور ڈسپلن میں رکھنا ہے تاکہ ان کی پیشہ ورانہ تربیت کو بہتر کیا جا سکے۔یقینی طور پر، پولیس ٹریننگ کالج، کوئٹہ میں نظم و ضبط کی حکمت عملی سے پولیس کی تربیت میں مزید بہتری آئے گی اور ادارے کی کار کردگی کو بھی مزید مستحکم بنایا جائے گا۔