• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مستونگ کوتاریخی اعتبارسے قلات ڈویژن ہی کا حصہ رہنا چاہئے

کوئٹہ(اسٹاف رپورٹر)سابق صوبائی وزیر داخلہ آغا عمر بنگلزئی نے کہا ہے کہ مستونگ تاریخی ، ثقافتی اور جغرافیائی اعتبار سے خطہ قلات اور تخت سراوان کا اہم اور حصہ رہا ہے صدیوں پر محیط تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ مستونگ کی شناخت ، روایات اور انتظامی وابستگی ہمیشہ قلات ڈویژن کے ساتھ جڑی رہی ہےوزیراعلیٰ بلوچستان اور صوبائی کابینہ مستونگ کو کوئٹہ ڈویژن میں شامل کیے جانے کے فیصلے پر سنجیدگی سے نظرثانی کریں انہوں نے کہا کہ انتظامی تبدیلیاں محض کاغذی کارروائی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے گہرے سماجی ، ثقافتی اور سیاسی اثرات ہوتے ہیں مستونگ کے عوام کی رائے اور تاریخی وابستگی کو نظر انداز کرنا کسی صورت مناسب نہیں اگر حکومت کا مقصد بڑے ڈویژنز کو چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم کرکے گورننس کو بہتر بنانا ہے تو اس کے لیے جامع مشاورت ، زمینی حقائق اور عوامی سہولت کو مدِنظر رکھا جانا چاہیے مستونگ کو اس کے تاریخی اور جغرافیائی پس منظر کے مطابق قلات ڈویژن ہی کا حصہ رہنا چاہیے تاکہ انتظامی ہم آہنگی اور عوامی مسائل کے حل میں آسانی ہو ۔ انہوں نے اکہ کہ جہاں تک کوئٹہ شہر کا تعلق ہے ، بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی دباؤ کے پیشِ نظر اسے مزید مؤثر انداز میں منظم کرنے کی ضرورت ہے ۔ کوئٹہ کو دو کے بجائے تین اضلاع میں تقسیم کرنا ایک بہتر انتظامی قدم ثابت ہوسکتا ہے ۔ قومی اسمبلی کے ہر حلقے کو ایک الگ ضلع قرار دینے سے نہ صرف گورننس میں بہتری آئے گی بلکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور سرکاری امور کی انجام دہی میں بھی آسانی ہوگی۔
کوئٹہ سے مزید