• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امیر حمزہ:اے عیاروں کے عیار عمرو، ایران نے مزاحمت اور قربانی کا وہ بے مثال جذبہ دکھایا ہے کہ رہتی دنیا تک یاد رہے گا ۔سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ثابت کر دیا کہ آج کے دور میں بھی جذیہ ایمانی طاقتوروں کو اخلاقی شکست سے دو چار کر سکتا ہے، ایرانی قوم کی بہادری کو سلام ۔

عمر و عیار:اے صاحب قرآن، اے میرے آقا! یہ دنیا اخلاقیات پر قائم نہیں مادیت پر قائم ہے ایران کو مادی شکست ہوئی ہے پہلے ہی حملے میں سپریم لیڈر کی شہادت ایران کی کمزور حکمت عملی کی مظہر ہے جنگیں اخلاقیات سے نہیں وسائل اور تیاری سے لڑی جاتی ہیں۔

امیر حمزہ:اے عیار، تم ہمیشہ سے منفی سوچتے ہو، ایران آج بھی مزاحمت کر رہاہے ٹرمپ نہ رجیم چینج کر سکا اور نہ ایرانی قوم کے عزم کو توڑ سکا ،ایران نے کئی سال معاشی پابندیاں برداشت کیں مزاحمت کرنے کا حق ادا کر دیا۔

عمر و عیار:حضور! ایران کی ساری پراکیسز ایک ایک کر کے ختم ہو گئیں ۔غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ، شام میں اسد حکومت اور یمن میں حوثی، سب اسرائیل نے ختم کر دیئے، ایران کی باری تو آنی ہی تھی۔ دیکھ لیجیے گا ایران میں امریکہ کی مرضی کا سپریم لیڈر نہ آنے تک جنگ جاری رہے گی۔

امیر حمزہ:عمرو عیار یار چھوڑ، حقیقت کو مان، ایران جیت گیا اور امریکہ ہار گیا۔

عمر و عیار:حضور والا ! اخلاقی دنیا سے باہر نکل کر دیکھیں آج کی مادی دنیا میں جو صدر ٹرمپ چاہتا ہے وہ ہو رہا ہے، وہ وینزویلا کا صدر اٹھا کر امریکہ لے آیا، ایران کی ساری قیادت اگلے جہان پہنچا دی۔ افسانوی دنیا کے ہیرو اور ہوتے ہیں جبکہ حقیقت تو وہ ہے جو سامنے نظر آرہی ہے ایران ٹوٹ پھوٹ چکا۔

امیر حمزہ :اےعمرو یہ بتا کہ پاکستان واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت بھی ہے اس کواپنے بچائو کیلئے کیا کرنا چاہیے کوئی عیار ی نہ بتانا،سیدھی راہ دکھانا۔

عمر و عیار:اے صاحب قرآن، آج کی دنیا چالاکوں اور ہوشیاروں کی دنیا ہے اس میں سادہ لوگوں کی گنجائش نہیں۔ پاکستان کیلئے فوری خطرہ طالبان اور افغانستان سے آنیوالے دہشت گرد ہیں پاکستان نے بگرام بیس تباہ کر کے انہیں شدید نقصان پہنچایا ہے۔ مگر جب تک افغانستان میں پاکستان مخالف طالبان حکومت تبدیل نہیںہوتی اس وقت تک پاکستان محفوظ نہیں شمالی اتحاد والے طالبان سے زیادہ باشعور ہیں انہیں آگے لانا چاہیے۔

امیر حمزہ: اے عمرو۔ یہ طالبان کیا لوگ ہیں، پاکستان نے انہیں برسوں دودھ پلایا اپنے پاس رکھا مگر یہ پاکستانی دودھ پی کر اسے ہی ڈسنے کو آ گئے انہیں تو پاکستان کاممنونِ احسان ہونا چاہیے۔

عمر و عیار:اے امیر، اے صاحب قرآن، انہیں نہ مذہبی شعور ہے اور نہ تہذیبی شعور۔ یہ آج بھی کئی صدیوں پہلے کے دور میں جی رہے ہیں پاکستان کے ساتھ ان کا بہت گہرا مذہبی اور تہذیبی تضاد ہے یہ تضاد کبھی پر نہیں ہو سکتا۔ یہ مسئلہ لڑائی سے ہی حل ہو گا ایک دفعہ پاکستان کو ان نام نہاد مذہبی ملائوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہو گا وگرنہ یہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرتے رہیں گے۔

امیر حمزہ: عمرو تم ہمیشہ انتہا تک پہنچ جاتے ہو۔ طالبان میں اچھے لوگ بھی ہیں وہ اپنے لوگوں کو سمجھاتے تو ہونگے۔ کیا انہیں علم نہیں کہ اگر پاکستان انہیں بنا سکتا ہے تو انہیں توڑ بھی سکتا ہے۔

عمرو:اے امیر، جن بوتل سے باہر آجائے تو یہ واپس بوتل میں نہیں جاتا۔ گڈ طالبان اور بیڈ طالبان والا فارمولا پٹ چکا۔ یہ سب ایک جیسے ہیں ان کا حل یہی ہے کہ پاکستان انہیں آپس میں لڑنے دے اور خود باہر نکل آئے، یہ صدیوں سے آپس میں لڑتے رہے ہیں اور آئندہ بھی ایسے ہی رہیں گے بس وہاں پاکستان مخالف حکومت ختم کر دیں باقی کام خود ہی ہو جائے گا۔

امیر حمزہ: اے عمرو تمہارا ذہن شرارت اور عیاری کی طرف زیادہ چلتاہے طالبان اور پاکستان دونوں مسلمان ہیں دونوں چار دہائیاں اکٹھے رہے پھر اس قدر دوریاں کیوں؟

عمر و عیار:اے امیر، طالبان کو حکومت ملی تو ان کے ذہن میں فتور آگیااور وہ پاکستان میں بھی اپنا اثر اور بالآخر حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں وہ پاکستان کی حکومتوں کو غیر اسلامی سمجھتے ہیں۔

امیر حمزہ:عجیب بات ہے کہ وہ ہندو بھارت کواپنا دوست اور مسلم پاکستان کو اپنا دشمن تصور کرتے ہیں ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی بے وقوفیوں کی وجہ سے ہی مارے جائیں گے۔

عمر و عیار:اے امیر، میں پاکستان پر حیران ہوں اس کی فوج طاقتور ہے مگر چاروں طرف سے راستے بند ہونے کی وجہ سے معیشت دبائو کا شکار ہے،۔ ایک طرف بھارت ہے دوسری طرف ہمالیہ ہے اور تیسری طرف افغانستان تجارتی راستوں میں رکاوٹ ہے اگر کوئی وار لارڈواخان کا راستہ کھول دے تو پاکستان کی سنٹرل ایشیا تک تجارتی رسائی ہو جائے گی اور پاکستان تجارت کا بہت بڑا مرکز بن جائے گا۔

امیر حمزہ:اے عمرو چالاکی کی عمر تھوڑی ہوتی ہے ہر چیز ایک ریاست کی مرضی سے نہیں ہو سکتی۔ یہ تمہاری بچگانہ اور منفی سوچ ہے۔

عمر و عیار:اے امیر، ایسے ہی سہی لیکن پاکستان کو اپنا فائدہ تو سوچنا چاہیے اور واخان کے تجارتی راستے کو کھلوانے کی کوشش کرنا چاہیے۔

امیر حمزہ۔ اے کم بخت تمہارا دماغ ہمیشہ الٹ سمت ہی چلتا ہے۔ لگتا ہے دنیا بھر کی جنگیں اور لڑائیاں تمہاری ہی ترتیب شدہ ہیں۔

عمر و عیار:اے آقا۔ آج میرا دماغ چل رہاہے اس لیے پاکستان کو مشورے دے رہا ہوں تاکہ اسلام کی واحد ایٹمی طاقت دانش اور عقلمندی سے چلے ایران کی طرح بے وقوفی سے اپنے لیے تباہی نہ لے آئے اصل کامیابی بچائو اور اپنی طاقت کو اس وقت تک بچا کر رکھنا ہے جب تک انتہائی ضرورت نہ پڑ جائے۔

امیر حمزہ۔ اے چالاک انسان، یہ تو بتا کہ اب جبکہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے میں ہے تو ظاہر ہے اسے مشرق وسطیٰ کے معاملات میں شامل تو ہونا پڑے گا۔

عمر و عیار:اے آقا۔ سچ عرض کروں تو برا لگے گا پاکستان جیسے دانش مندوں کے ملک نے چار دہائیاں اپنے وسائل ، دولت اور انسانی جانیں افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں ضائع کیں اور نتیجے میں پاکستان کو پتھر ہی ملے۔ پتھروں سے کھیلیں گے تو پتھر ہی حاصل کریں گے ہیروں سے کاروبار کریں گے تو ہیرے ملیںگے افغانستان پتھروں اور مڈل ایسٹ ہیروں سے بھرا ہوا ہے ،پاکستان کو مڈل ایسٹ میں سرگرم ہونا چاہیے۔ پاکستان کی معاشی مشکلات اور مڈل ایسٹ کی دفاعی مشکلات کا حل ان دونوں خطوں کے باہمی تعاون اور رابطوں پر ہے۔ پاکستان کو مڈل ایسٹ کےحوالے سے اپنی نئی اسٹرٹیجی ترتیب دینے کی ضرورت ہے ۔

امیر حمزہ۔ اے ناہنجار، پاکستان تو دانش مندوں سے بھرا پڑا ہے یہی وجہ ہے کہ 56 اسلامی ممالک میں سے صرف پاکستان ہی ایٹم بم بنا سکا اس کی فوج سب سے مضبوط ہے اور اس نے ہمیشہ سوچ سمجھ کر اتحاد بنائے ہیں۔

عمر و عیار:ہا ہا ہا۔ ابھی آپ دیکھ لیں۔ امریکی صدر ٹرمپ روز پاکستانی قیادت کی تعریفیں کرتا ہے۔ اب تو دنیا بھر کو پاکستانی عقل مندی اور دانش کو تسلیم کر لینا چاہئے۔

(طلسمِ ہوش ربا کا ایک جدید صفحہ)

تازہ ترین