راشدہ جاوید
زندگی کا انحصار اس فیصلے پر ہوتا ہے کہ ہمیں زندگی میں کہاں جانا ہے، ہمیں کرنا کیا ہے؟ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ مجھے زندگی میں کرنا کیا ہے؟ میرا مقصد کیا ہے؟ اگر آپ آج سوچ سمجھ کرکوئی فیصلہ کرتے ہیں تو آپ کا مستقبل بدل جائے گا۔ یاد رکھیے! ’’ زندگی صدیوں، سالوں، مہینوں اور دنوں میں نہیں بدلتی وہ اسی لمحے بدل جاتی ہے جب آپ زندگی بدلنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
ایک اچھا فیصلہ اتنی قوت کا حامل ہوتا ہے کہ یہ آپ کی زندگی کے ہر پہلو مثلاً تعلقات، ماحول، کارکردگی، مستقبل، آمدنی، آپ کی قسمت اور خود آپ کوبھی بدل کررکھ دیتا ہے۔ ہر عمل ایک نتیجہ دیتا اور ایک خاص سمت میں آگے بڑھاتا ہے۔ زندگی جہد مسلسل کا نام ہے۔
کسی خاص عمل میں مستقل مزاجی ہی قسمت کی صورت گری کرتی ہے۔فیصلہ سازی کی پہلی سیڑھی یہ ہے کہ نوجوان خود کو پہچانے، اصل کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب وہ یہ سمجھیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں، کس چیز میں بہتر ہیں، انسان کسی راستے پرتب ہی قائم رہ سکتا ہے جب اس کا کوئی مقصد ہو۔
اس لیے فیصلہ ہی قسمت کو سنوارتا ہے۔ صرف ارادے یا خواہش سے بات نہیں بنتی، سوچ مستحکم ہونی چاہیے کہ آپ کو کیا بننا ہے؟ نوجوان اگر فیصلہ کی گھڑی میں تاخیر، ٹال مٹول یا سستی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو وہ مصائب کا شکار ہوجاتے ہیں۔ زندگی میں متعدد بار ایسے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ تذبذب کی کیفیت میں گرفتار ہونے کی وجہ سے کسی قطعی رائے تک نہیں پہنچتے۔ اس کیفیت کو قوت فیصلہ کا قفدان کہا جاتا ہے۔
ماں باپ چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد اپنے پیروں پر کھڑی ہو لیکن کیسے کھڑی ہو، آپ اسے کوئی فیصلہ کرنے ہی نہیں دیتے، ہر معاملے میں اپنی پسند اور ناپسند بچوں پر مسلط کریں تو وہ کیا کرسکتی ہے؟ وہ خود کو ایک قید میں محسوس کرتے ہیں۔ وہ دل سے کسی کام کو نہیں اپناتے بلکہ صرف مجبوری کے تحت چلتے ہیں۔ انہیں فیصلہ کرنے دیں اس سے ان میں اعتمادآئے گا اور وہ آگے بڑھیں گے۔فیصلہ سازی کا سب سے اہم ستون ہی خود اعتمادی ہے۔
جو نوجوان خود پر یقین رکھتا ہے، وہ دوسروں کی تنقید سے نہیں گھبراتا اور نہ ہی ناکامی سے ڈرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر غلطی ایک سبق ہے اور ہر ناکامی ایک نیا موقع۔ اس وقت نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کرنے کی ضرورت ہے جب تک وہ ایسا نہیں کرتے کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ ایک باشعور نوجوان وہ ہوتا ہے جو ہر معاملے کے مختلف پہلوؤں کو دیکھتا ہے، اس کے ممکنہ نتائج پر غور کرتا ہے، اور پھر ایک ذمہ دارانہ فیصلہ کرتا ہے۔
کیریئر کے انتخاب میں یہ نہیں دیکھنا چاہیے کہ کون سا شعبہ زیادہ پیسہ دیتا ہے یا کون سا فیشن میں ہے، بلکہ اس کی اپنی دلچسپی کہاں ہے، وہ کس کام میں بہتر کارکردگی دکھا سکتا ہے۔ جو نوجوان اپنے وقت کو منظم کرتا ہے، وہ زندگی کے بڑے فیصلے بھی بہتر طریقے سے کرتا ہے۔ فیصلہ کرتے وقت بے جا اندیشوں اور فکروں سے خود کو محفوظ رکھیں۔ ضروری نہیں ہے کہ آپ کا ہر فیصلہ درست ہو کیونکہ کوئی بھی غلط فیصلہ ایک نیا سبق اور تجربہ ضرور دیتا ہے۔
جذباتی کیفیت، بے چینی اور اضطراب میں اہم فیصلے نہ کریں چھوٹے چھوٹے فیصلے کریں گے تو بڑے فیصلے کرنا آسان ہوجائیں گے۔ ایمازون کے بانی جیف بیزوس یا فیس بک کے بانی مارک برگ نے اپنے کاروبار جمائے اور اربوں ڈالر کمائے۔ انہوں نے ابتدا میں جو بڑا فیصلہ لیا (کسی نوکری کی بجائے اپنا بزنس کرنا) اس کے اچھے نتائج برآمد ہوئے، مگر یہ فیصلے کتنے رسک سے بھرپور تھے اس کا فیصلہ ہر انسان کی سوچ پر منحصر ہے کہ وہ انہیں کیسے دیکھتا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اپنے کسی بڑے فیصلے کے نتیجے میں ہونے والے بڑے نقصان اور اس سے ہونے والے ممکنہ فائدے کے مابین تعلق کو بھی سمجھیں۔ان کا کوئی مقصد ہوناچاہیے۔ کل کی دنیا آج سے یقیناً مختلف ہوگی، اس لئے وہ فیصلہ کریں، جس سے آپ مطمئن ہوں۔ ترقی کے خواب دیکھنا اچھی بات ہے، مگر مفروضوں پر زندگی نہ گزاریں بلکہ زمینی حقائق دیکھ کر فیصلے کریں، ترقی کے لئے نظر آسمان پرہونی چاہیے۔ لیکن یہ نہ بھولیں کہ قدم زمین پرہی ہوں۔
نوجوان فیصلے ساز ایک دن میں نہیں بنتا۔ یہ ایک مسلسل سفر ہے جس میں علم، کردار، تجربہ اور خود اعتمادی کے سنگ میل آتے ہیں۔ یہ اس کی اپنی زندگی نہیں بدلتے، بلکہ خاندان، معاشرہ اور قوم کی سمت کا تعین کرتے ہیں۔ آج کا نوجوان فیصلہ کرے کہ اس کے لیے کیا اہم ہے؟ کسی کی اندھی تقلید اور اغیار کے آئیڈیلزم کو نہیں اپنانا بلکہ شعور کے ساتھ اپنی منزل کا تعین کرنا ہے، کسی کا آلہ کار نہیں بننا بلکہ وہ راستہ چننا ہے جس پر اس کا ضمیر اور جذبہ ایمانی ساتھ دیتا ہے۔