• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نوجوانوں کی پرواز سے پہلے ہی سوچ کے پر کیوں کتردیے جاتے ہیں

یہ واقعہ ایک چھوٹے سے شہرکا ہے، جہاں ایک بڑے اسکول کے انسپکٹر نے پرائمری اسکول کا دورہ کرنے کا اعلان کیا، راستے میں ان کی گاڑی خراب ہو گئی، وہ حیران و پریشان سڑک پر کھڑے تھے۔ اسی دوران ایک طالب علم وہاں سے گزرا تو اُس نے اُن سے پوچھا کہ،’’ کیا میں آپ کی وہ کوئی مدد کر سکتا ہوں‘‘؟ انسپکٹر نے کہا، ’’کیا تمہیں گاڑیوں کے بارے میں کچھ علم ہے؟‘‘

طالب علم نے صرف ’جی‘ کہا اور گاڑی سے اوزارنکال کرکام شروع کر دیا اور کام مکمل ہونے کے بعد طالب علم نے انسپکٹر سے کہا، اب آپ کو گاڑی کا انجن چلا کر دیکھیں۔‘‘ انسپکٹر نے ایساہی کیا، انجن فوراً چل پڑا اور گاڑی نے اپنی رفتار پکڑ ی۔ انسپکٹر نے طالب علم کا شکریہ ادا کیا اور پھر تجسس سے پوچھا کہ’’، تمھیں تواس وقت اسکول میں ہونا چاہیے تھا‘؟

طالب علم نے جواب دیا، ’’آج ہماری اسکول میں انسپکٹر

آ رہے ہیں، چونکہ میں کلاس کا سب سے نالائق طالب علم ہوںاس لیے، میرے استاد نے مجھے گھر بھیج دیا۔‘‘ انسپکٹرنے اُسے ایک نظر دیکھا اور اپنا تعارف کرائے بغیر وہاں سے اسکول روانہ ہوگئے۔

یہ کہانی ہمارے معاشرے کی حقیقت کو عیاں کرتی ہے کہ کس طرح کبھی کبھار صلاحیتوں کا گلا گھونٹ دیا جاتا ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی شخص بے وقوف یا ناکام ہے، بلکہ کبھی کبھی لوگ غلط جگہ پر ہوتے ہیں۔ اگر ایڈیسن، جسے اس کے اساتذہ نے ناکام قراردے کر اسکول نے نکال دیاتھا اگر ایسا نہیں ہوتا توکبھی بھی اپنےایک ہزار ایجادات، جن میں سب سے مشہور بجلی کا بلب ہے، نہ بنا پاتا۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہر شخص کو اس کی صلاحیتوں کے مطابق صحیح جگہ پر نہیں رکھا جاتا۔

نوجوان وہ چنگاری ہیں جو اگر صحیح سمت میں جل اٹھیں تو اندھیروں کو روشنی میں بدل سکتے ہیں، مگر بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہی چنگاری اکثر راکھ میں دبا دی جاتی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتیں، خواب اور تخلیقی سوچ ایک ایسے نظام کی نذر ہو جاتی ہیں جو سوال اٹھانے سے زیادہ خاموش رہنے کو ترجیح دیتی ہیں، وہ فطری طور پر سوال کرتے ہیں، جاننا چاہتے ہیں، سمجھنا چاہتے ہیں اور بہتر سے بہتربننا چاہتے ہیں، مگر جیسے ہی وہ سوال کرتے ہیں، انہیں یہ کہہ کر خاموش کرا دیا جاتا ہے کہ ’’ابھی تمہاری سوچنے کی عمر نہیں ،بڑے جو کہہ رہے ہیں وہی درست ہے یا سسٹم ایسا ہی چلتا ہے‘‘۔ یوں آہستہ آہستہ ان کی سوچ کے پَر کتر دیے جاتے ہیں اور ان کی آواز دب کر رہ جاتی ہے۔

ہمارے ارد گرد ایسے بہت سے نوجوان ہیں، جن کی تعلیمی کار کر دگی تو بہتر نہیں ہوتی، مگر ان میں خداد صلاحیتیں ہوتی ہیں، جن کا پتا آہستہ آہستہ چلتا ہے۔ ایسے نوجوانوں کے بارے میں ان کے والدین اور اساتذہ کو بھی شکایت ہوتی ہے کہ وہ کس طرح تعلیمی مدارج طے کریں گے، یا ان کا مستقبل روشن ہو بھی پائے گا یا نہیں۔

اس کے بر عکس ایسے طلباء، جواچھے گریڈز سے کام یاب ہوتے ہیں، ان کے دماغ میں بچپن ہی سے بٹھا دیا جاتا ہے کہ بڑےہو کر ڈاکٹر یا انجینئر بننا ہے، ایسے نوجوان بھی با دل نخواستہ وہ بھی اپنا شوق اور صلاحیتیں فراموش کر کے بس والدین کی خواہش پوری کرنے میں لگ جاتے ہیں۔ بہت سے والدین کو علم نہیں کہ،معاشرتی دباؤ بھی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو دبا دیتا ہے۔

کوئی نوجوان فنونِ لطیفہ کے شعبہ کو اپنانا چاہتا ہے تو اسے غیر سنجیدہ سمجھا جاتا ہے، کوئی سوشل ورک میں ماسٹر یا گریجویشن کرنا چاہتا ہےتو اسے وقت کا ضیاع کہا جاتا ہے، اور اگرکوئی نوجوان تعلیم حاصل کرنے کے بعد کاروبار کرنے کا خواہش مند ہوتا ہے تو اسے غیر محفوظ راستہ قرار دیا جاتا ہے۔ یوں والدین خود اپنے بچوں یعنی مستقبل کے معماروں کے حوصلے پست کر دیتے ہیں۔

روزگار کے مواقع کی کمی اور سفارش کا کلچر نوجوانوں کی امیدوں پر کاری ضرب لگاتا ہے۔ جب محنت کرنے والے کو پیچھے اور تعلقات رکھنے والے کو آگے دیکھا جاتا ہے تو ان کے دل میں یہ احساس جنم لیتا ہے کہ ان کی صلاحیتوں کی کوئی قدر نہیں۔ آہستہ آہستہ یہ احساس ان کی محنت، جذبے اور خود اعتمادی کو کمزور کر دیتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ، جب بھی نوجوانوں نے خود پر بھروسا کیا، انہوں نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نوجوان خود اپنے آپ کو پہچانیں، اپنے ہنر کو نکھاریں اور سیکھنے کا عمل کبھی نہ چھوڑیں۔ علم، مہارت اور کردار وہ ہتھیار ہیں جن سے ہر رکاوٹ کو عبور کر سکتے ہیں۔

معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو سننے کا حوصلہ پیدا کریں۔ تعلیمی ادارے ایسے ماحول فراہم کریں جہاں سوال کرنا جرم نہ سمجھا جائے بلکہ،اُن کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ والدین بچوں کے خوابوں کو سمجھیں اور ان کا ساتھ دیں، نہ کہ ان پر اپنی مرضی مسلط کریں۔ ادارے میرٹ کو فروغ دیں، تاکہ اُنہیں یہ یقین ہو کہ ان کی محنت رنگ لائے گی۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا کل مضبوط، روشن اور باوقار ہو تو ہمیں آج کے نوجوان نسل کو اعتماد، آزادی اور مواقع دینے ہوں گے، کیونکہ جب مواقع ملیں گے تو وہ صرف اپنے لیے نہیں، پوری قوم کے لیے نئی زندگی کی راہیں کھول دیں گے۔

نوجوان سے مزید